کینیا: حملوں میں کئی خواتین ’اغوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اتوار کو گولہ باری کئی گھنٹے تک جاری رہی اور عمارتوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آئے

افریقی ملک کینیا کے ساحلی شہر مپیکیٹونی میں ’اسلام پسندوں‘ کے ایک تازہ ترین حملے میں کم از کم 12 خواتین کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

ملک کے صدر ہُورو کینیٹا نے مپیکیٹونی کے دو قریبی دیہاتوں میں ہونے والے اس حملے کا الزام ’مقامی سیاسی گٹھ جوڑ‘ پر لگایا ہے، لیکن صومالیہ کا الشباب نامی گروہ پہلے ہی اس حملے کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔

پیر اور منگل کی درمیانی رات کو کیے جانے والے اس تازہ ترین حملے سے قبل اتوار کو مپیکیٹونی کے ہوٹلوں اور ایک پولیس سٹیشن پر ’اسلام پسندوں‘ کے حملے میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ شدت پسند گروہ الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صومالیہ میں کینیا کی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے مسلمانوں کی ہلاکتوں کا انتقام ہے۔

مپیکیٹونی میں عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اتوار کو گولہ باری کئی گھنٹے تک جاری رہی اور عمارتوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آئے۔

یہ شہر لامو جزیرے کے قریب ہے جو سیاحت کے لیے معروف مقامات میں شامل ہے۔

سنہ 2011 کے بعد کینیا میں جنگجوؤں کے کئی حملے دیکھے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسی سال کینیا نے پڑوسی ملک صومالیہ میں الشباب کے جنگجوؤں کے حلاف فوج بھیجی تھی۔

منگل کو عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر کینیٹا نے کہا کہ یہ حملے دراصل ’ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیے گئے ہیں جن کے پیچھے سیاسی عزائم ہیں اور ان کا مقصد کینیا کے لوگوں کو قومیت کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنانا ہے۔‘

’شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قبیح جرم کے پیچھے مقامی سیاسی لوگوں کی منصوبہ بندی شامل تھی۔‘

اگرچہ صدر کینیٹا نے مبینہ حملہ آوروں کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ شہر کی پولیس کو حملوں کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی لیکن پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

کینیا میں ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اتوار کے پرتشدد واقعات کے بعد سے مپیکیٹونی سے تقریباً 50 افراد لاپتہ ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مپیکیٹونی میں اکثریت مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

اسی بارے میں