عراق میں جنگی جرائم کے سامنے آنے والے ثبوت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ عراق میں اپنی مفادات کی حفاظت کی خاطر اپنے 275 عسکری عملے کو وہاں تعینات کر رہا ہے

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ نے کہا ہے کہ سُنی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ فی عراق و شام کے جنگجوؤں نے پکڑے گئے سینکڑوں فوجیوں کو بغیر کسی شفاف مقدمے کے سزائے موت دی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ ناوی پیلے نے کہا کہ منظم طریقے سے لوگوں کو قتل کرنا ’یقیناً جنگی جرائم کے مترادف ہے۔‘

انھوں نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب دولتِ اسلامیہ عراق و شام (آئی ایس آئی ایس یا داعش) کے جنگجوؤں نے شمالی عراقی شہر تل عفر پر قبصہ کر لیا ہے۔

باغیوں نے گذشتہ ہفتے کئی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن بعض شہر ان سے واپس لے لیے گئے تھے۔ شدت پسندوں کی طرف سے بغداد پر چڑھائی کرنے کی دھمکی کے بعد وہاں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

ناوی پیلے نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو عراق میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اپنے عملے سے یہ ثبوت ملے ہیں کہ گذشتہ پانچ دنوں کے دوران جنگ نہ لڑنے والوں کو جن میں سکیورٹی فورسز کے وہ اہلکار بھی شامل ہیں جو یا گرفتار ہوئے یا جنھوں نے ہتھیار ڈال دیے، بغیر کسی شفاف مقدمے کے سزائے موت دی گئی۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار شدت پسندوں کی طرف سے انٹر نیٹ پر ایک ویڈیوں پوسٹ کرنے کے بعد کیا جس میں ایسا لگتا ہے کہ جنگجوؤں کو عراقی فوجوں کا قتلِ عام ہوتے دکھائی گیا ہے۔

عراقی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل قاسم الموسوی نے ان تصاویر کے اصلی ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دریں اثنا یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بغداد کے مغرب میں فلوجہ شہر کے قریب شدید لڑائی کے دوران فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی مار کر گرایا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ عراق میں اپنی مفادات کی حفاظت کی خاطر اپنے 275 عسکری عملے کو وہاں تعینات کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے جنگجوؤں نے موصل اور تکریت سمیت کئی دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا مگر عراقی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کئی شہروں کو جنگجوؤں کے قبضے سے آزاد کروا لیا ہے۔

ادھر ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ عراق میں سلامتی کے معاملے پر ایران سے براہ راست بات چیت کے بارے میں غور کر رہا ہے جو اس ہفتے بھی ممکن ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکہ عراق میں کوئی کارروائی کرتا ہے تو ایران اس میں تعاون کے بارے میں غور کرے گا۔

اسی بارے میں