عراق ابھی نہیں ٹوٹ رہا

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رضاکاروں کی شمولیت نے عراقی فوج کو بھی ایک نیا احساس دیا ہے

اگر آپ اخبارات پڑھیں اور ٹیلی ویژن کی نشریات دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ سنی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام یا داعش عراقی فوج کو شکست دیتی اور ہر چیز کا صفایا کرتی ہوئی بغداد کی طرف ایسے بڑھ رہی ہے کہ داعش نہ ہو سائیگاؤں کی طرف پیش قدمی کرتے 1975 کے ویت کانگ ہوں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ داعش اب بغداد سے 37 میل دور بعقوبہ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے کے دوران اپنی کارروائیوں سے عراقی فوجیوں کو اتنا دہشت زدہ کیا ہے کہ ان کے تین ڈویژن اُس کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

داعش کے پاس دولت ہے اور اس نے موصل پر قبضہ بھی غالباً پہلے اس لیے کیا ہے کہ اپنے خزانے میں دو ارب ڈالر اور شامل کر سکے۔ اُس کا وحشیانہ اور ظالمانہ انداز اس کے علاوہ ہے۔

لیکن بعقوبہ کی لڑائی میں معاملہ تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ فوجی جو داعش کو شہر کے مرکز سے باہر دھکیل رہے ہیں جزوی طور پر ان شیعہ رضاکاروں پر مشتمل ہیں جو اس جنگ میں سنی دشمنوں سے لڑنے کے لیے آئے ہیں۔

اسلحے کی خریداری

بغداد میں پستولوں اور گولیوں کی قیمتیں تگنی ہو چکی ہیں اور کلاشنکوف تو شاید ہی مل پائے۔ یہ قیمتیں اس لیے نہیں چڑھیں کہ لوگ خود کو داعش کے ممکنہ حملے کے لیے مسلح کر رہے ہیں بلکہ اس لیے چڑھی ہیں کہ شیعہ رضاکاروں میں ان کی مانگ زیادہ ہو گئی ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ داعش بغداد کے نواح میں سنی آبادیوں کے قریب پہنچنے والی ہے۔ بغداد کے شہریوں کی اکثریت شیعہ ہے لیکن سمجھا جاتا ہے امیریہ اور خدرا کی سنی آبادیاں جلد ہی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

دس ہزار کے لگ بھگ جنگجوؤں کے ساتھ اگر کوئی تنظیم بغداد جیسے شہر پر قبضہ کر لے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ ساری شیعہ آبادی کے حوصلے بالکل ہی پست ہو چکے ہیں اور یہ بات ناقابلِ تصور ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ داعش کے جنگجوؤں نے ٹوئٹر اور ویب سائٹوں پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز لگائی ہیں جن سے ان کا وہ وحشیانہ طرزِ عمل سامنے آتا ہے جو وہ مفتوحوں سے کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption بریگیڈئر جنرل قاسم سلیمانی ایران کےاُس عزم کی علامت ہیں جو وہ عراقی حکومت پر اپنا اثر و رسوخ محفوظ رکھنے کے لیے رکھتا ہے

ایرانی اثرات

شیعہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ داعش انھیں کافر سمجھتی ہے اور ان کا صفایا کرنا چاہتی ہے۔ ایسے لوگوں سے کسی رحم کی توقع نہیں کی جا سکتی جو فتح کے بعد لوگوں کو پھانسیوں پر چڑھاتے ہوں اور سروں سے فٹبال کھیلتے ہوں۔

اس کے علاوہ ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے عالمی مدد کا۔ امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ 275 فوجی بھیج رہی ہے لیکن ان کی اتنی اہمیت نہیں جتنی کہ ایک ایرانی فوجی کی ہو سکتی ہے جو پہلے ہی وہاں موجود ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی شیعہ قوم ہونے کی حیثیت سے ایران پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے ایک جنرل کو بغداد کے دفاع میں مشاورت کے لیے بھیج چکا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل قاسم سلیمانی ایران کےاُس عزم کی علامت ہیں جو وہ عراقی حکومت پر اپنے اثرات کو محفوظ رکھنے کے لیے رکھتا ہے۔

بلاشبہ مغربی سفارتکار عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی اُس آمادگی کو شیعوں اور سنیوں کے درمیان پیدا ہونے والے حالیہ مسائل کا سبب سمجھتے ہیں جو وہ ایرانی مطالبات پر آمادگی کے لیے رکھتے ہیں۔

اگر آپ وائٹ ہاؤس اور برطانوی دفترِ خارجہ کے بیانات کو سنیں تو آپ ضرور سوچیں کہ وہ موجودہ بحران میں ایران کو ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کی منصفانہ اجازت دے رہے ہیں۔

اصل میں تو یہ اس بات کا صاف اعتراف ہے کہ برطانیہ اور امریکہ نہیں، ایران ہی ایسی واحد طاقت ہے جو صورتِ حال کے بگاڑ میں عراق کو بچا سکتی ہے اور یہ بات کم و بیش سبھی جانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شیعہ رضاکاروں کی جوابی لڑائی نے یہ خطرہ پیدا کردیا ہے کہ القاعدہ کو نا پسند کرنے والے سنی یہ سوچنے لگیں کہ شیعہ عام سنیوں سے انتقام لیں گے اور یہ بھی محسوس کرنے لگیں کہ داعش ہی وہ واحد گروہ ہے جو ان کی حفاظت کر سکتا ہے

داعش کا وجود

صرف ایک سال پہلے تک اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ عراق ایک متحد ملک کے طور پر قائم رہے گا۔ واضح طور پر شمال مشرقی کرد علاقے خودمختاری کا عزم اور خواہش رکھتے ہیں لیکن پھر بھی یہ سمجھا جاتا ہے وہ عراق ہی میں رہیں گے۔

سنیوں میں اگرچہ شیعہ سیاست دانوں کے اقتدار کے بارے میں ناپسندیدگی بڑھتی جا رہی ہے لیکن فوائد کا توازن اب تک عراق ہی کا حصہ رہنے کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔

اب داعش کا وجود اور شام سے سرحدوں کا ملنا، لگتا ہے کہ منظرنامہ کو تبدیل کر رہا ہے۔

بہت سے سنی، خاص طور وہ قدامت پسند جنھوں نے آٹھ سال قبل القاعدہ کو ناپسند کر کے امریکی افواج کے لیے عراق سے باعزت واپسی کی راہ ہموار کی تھی، اس پر خوش نہیں کہ ان کے قصبوں اور دیہاتوں پر داعش کا راج ہو۔

لیکن لڑائی میں شیعہ رضاکاروں کی جوابی شرکت نے یہ خطرہ پیدا کر دیا ہے کہ یہی سنی یہ سوچنے لگیں کہ شیعہ عام سنیوں سے انتقام لیں گے۔ اسی کے نتیجے میں وہ یہ بھی محسوس کرنے لگیں کہ داعش ہی وہ واحد گروہ ہے جو ان کی حفاظت کر سکتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ لڑائی واضح طور پر فرقہ وارانہ جنگ، بڑے پیمانے پر شہریوں کے ’صفائے‘ اور وسیع تر تشدد کی شکل اختیار کرنے کا ٹھوس خطرہ رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی فوج کا ساتھ دینے کے لیے آنے والے شیعہ رضاکار

اب تک تو صورت حال اتنی بری نہیں ہے، جتنی باہر بیٹھے لوگوں کو محسوس ہوتی ہے لیکن اگر لڑائی جلد اور واضح طور پر ختم نہ ہوئی تو تمام خدشات درست بھی ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں