ملائیشیا: کشتی غرقاب ہونے سے 66 افراد لاپتہ، ہلاکتوں کا خدشہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساحلوں پر خراب کشتیوں کے حادثوں میں ہر سال ہزاروں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں

ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے ساحل کے قریب ایک کشتی غرقاب ہو گئی ہے جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی اس کشتی پر 97 افراد سوار تھے جن میں سے 31 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 66 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر اور پانچ امدادی کشتیاں اس علاقے کے لیے روانہ کی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو تلاش کیا جا سکے۔

ملائیشیا کی بحریہ انفورسمنٹ ایجنسی کے ترجمان کے مطابق سانحے کا شکار کشتی کے سواروں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

اطلاعات کے مطابق لکڑی کی یہ کشتی آبنائے ملاکا میں بینٹنگ کے قریب کلانگ بندرگاہ کے ساحل سے دور منگل اور بدھ کو نصف شب کو ڈوبی۔

بحریہ کے ایک اہلکار محمد زوری نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ اس کشتی کو بحری سفر کی اجازت نہیں تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشتی پر سوار تمام افراد انڈونیشیا کے رہنے والے تھے جو غیرقانونی طور پر جزیرہ نما ملاکا کے راستے ملائیشیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اس بارے میں متضاد خبریں بھی ہیں کیونکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اسلامی مہینے رمضان کے لیے اپنے وطن انڈونیشیا لوٹ رہے تھے۔

ابھی تک حادثے کے اسباب کا پتہ نہیں چل سکا ہے، نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ کشتی میں کتنے افراد کی گنجائش تھی۔

واضح رہے کہ ملائیشیا مشرق بعید کے ممالک میں نسبتاً زیادہ امیر ملک ہے اور وہاں پڑوس کے ممالک بطور خاص انڈونیشیا اور بنگلہ دیش سے کثیر تعداد میں لوگ جاتے ہیں جن میں غیر قانونی طور پر جانے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔

یاد رہے کہ اس علاقے میں اس طرح کے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں اور سالانہ ہزاروں افراد خراب کشتیوں کے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں