وسطِ ایشیا میں امریکی موجودگی کا اختتام

مناس ہوائی اڈہ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صحافیوں کے لیے بھی مناس میں خصوصی کشش تھی، وہ اس اڈّے سے خصوصی پراوازوں کا لطف اٹھا سکتے تھے

کرغزستان میں امریکی اڈے کا معاہدہ آئندہ ماہ ختم ہو رہا ہے۔ اسی دوران روس نے سابق سوویت ریاست کو اربوں ڈالر کے ادھار اور قرضوں کے عزم کا اظہار کیا ہے، جو محض اتفاق نہیں ہے۔

کم و بیش گذشتہ ایک دہائی سے کرغز زمین پر مناس کا ہوائی اڈہ ایک ایسا جزیرہ تھا جس پر امریکی عمل داری تھی۔

خیمے، خوابگاہیں، گاڑیاں، کوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جو امریکہ سے نہ آئی ہو۔ یہاں تک کہ دیواروں میں بجلی کے ساکٹ بھی ایسے لگائے گئے تھے جو امریکی ساخت کے پلگوں سے مناسبت رکھتے تھے۔

صحافیوں کے لیے بھی مناس میں خصوصی کشش تھی، وہ اس اڈّے سے خصوصی پراوازوں کا لطف اٹھا سکتے تھے اور فوجی کاک پٹ میں بیٹھ کر قدرتی مناظر سے حظ اٹھا سکتے تھے۔

خود مجھے بھی زندگی میں پہلا انوکھا تجربہ اسی ہوائی اڈّے سے ہوا اور میں نے کےسی 135طیاروں کو فضا ہی میں تیل بھرتے ہوئے دیکھا۔

میں پرواز کرتے ہوئے پٹرول پمپ طیارے کے اس حصے میں دراز تھا جہاں پمپ کا وہ آپریٹر ہوتا ہے جس نے جیٹ کو فضا ہی میں پٹرول دینا ہوتا ہے۔

میں نے یہ حیران کن منظر دیکھا کہ ایک ایف 15 جیٹ ہماری طرف بڑھتا آ رہا ہے۔ پھر وہ اتنا قریب آ گیا کہ میں اس کے کاک پٹ میں پائلٹ کو واضح طور پر دیکھ سکتا تھا۔

’تیل بھرا جا چکا، تم اب الگ ہو جاؤ،‘ میرے ہیڈ فون میں بھی پمپ آپریٹر کے الفاظ گونجے جو جیٹ کے پائلٹ سے کہے گئے تھے اور جیٹ نے آہستہ آہستہ ہمارے طیارے سے دور ہونا شروع کر دیا۔

فوجی

ایک اور تجربہ مجھے چند ماہ قبل ہوا۔ اس بار سواری سی 17 ٹرانسپورٹ طیارہ تھا۔ ہم برف پوش بشکیک سے اڑے اور 90 منٹ بعد دھوپ سے چمکتے مزار شریف کے اڈّے پر جا اترے۔ یہ ہے مناس کا حسن اور فائدہ، افغانستان سے بالکل قریب۔

میں نے چار خاکستری کیمو فلاج ٹرکوں کو طیارے کی طرف آتے دیکھا۔ انھیں طیارے میں چڑھا کر اچھی طرح باندھ دیا گیا تا کہ وہ پرواز کے دوران طیارے میں ادھر اُدھر حرکت نہ کر سکیں۔

ان گاڑیوں کو بگرام کے ہوائی اڈّے پر اتارا گیا اور وہاں سے ان امریکی فوجیوں کو اٹھایا گیا جو افغانستان چھوڑ کر واپس امریکہ جا رہے تھے۔

میں خاموش بیٹھا طیارے میں سوار ہونے والے فوجیوں کے چہروں کو دیکھ رہا تھا۔ خوشی اور مسرت سے بھرے، جلد گھر پہنچنے کے لیے بےتاب، کچھ سروں سے لگے ہیڈ فونوں سے کانوں میں اترتی موسیقی پر سر دھنتے اور کچھ ایسے بھی جو ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔

جیسے ہی وہ مناس میں طیارے سے اترے، دیکھتے ہی دیکھتے خیموں والے علاقے میں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس خیمہ بستی کو ہوٹل الاسکا کہا جاتا تھا۔

جو آرام نہیں کرنا چاہتے تھے وہ کھیلوں کے لیے مخصوص جگہ پر ٹیبل ٹینس کھیلنے لگتے یا پول کے کنارے جا لیٹتے۔ کچھ فلمیں دیکھتے اور کچھ ویڈیو گیموں میں دہشت گردوں کو مارنے کا کھیل کھیلتے۔

تاریک رزمیہ

اب ہوٹل الاسکا کہلانے والی خیمہ بستی اکھڑ چکی ہے۔ ڈائینگ ہال خالی پڑے ہیں۔ وہ امریکی فوجی کہیں دکھائی نہیں دے رہے جو پیٹھوں پر تھیلے لٹکائے بسوں پر چڑھتے اترتے دکھائی دیتے تھے۔

اب کوئی بندوق بردار آتا جاتا دکھائی نہیں دیتا۔ برسوں تک ہوائی اڈہ دینے اور لینے کی سیاست ایک تاریک رزمیہ بنی رہے گی۔

اس اڈّے کو بند کرنے اور واپس لینے کا فیصلہ 2009 میں ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی ’اتفاقاً‘ روس نے کرغزستان کو دو ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی کے کچھ دن بعد ہمیں صدر قرمان بیگ باقیوف کے انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خود مجھے بھی زندگی میں پہلا انوکھا تجربہ مناس کے ہوائی اڈّے کی وجہ سے ہوا اور میں نے کےسی 135طیاروں کو فضا ہی میں تیل بھرتے ہوئے دیکھا: عبدو جلیل عبدو رسولوف

ہمیں ایک نگراں کے ساتھ سیاہ شیشوں والی بی ایم ڈبلیو کار میں لے جایا گیا۔ صدر باقیوف شش و پنج میں مبتلا دکھائی دیتے تھے، ان کے ہاتھ لرز رہے تھے۔

صاف دکھائی رہا تھا کہ وہ اڈّے کے حوالے سے کوئی اہم پیغام بھیجنا چاہتے تھے لیکن جیسا کہ مشرق میں عام طور ہوتا ہے، وہ اس پیغام کو یونہی سرِعام نہیں کہہ سکتے تھے۔

’ابھی کوئی بات چیت تو نہیں ہو رہی لیکن مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے۔‘ انھوں نے بڑبڑاہٹ کے انداز میں کہا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ کرغزستان ہوائی اڈّے کے کرائے کے بارے میں امریکہ سے سودے بازی کرنا چاہتا تھا۔

آخرِ کار یہ ہوا کہ نیا معاہدہ ہو گیا۔ کرایہ بڑھ گیا۔ اڈہ امریکہ ہی کے استعمال میں رہا لیکن اب اس کا نام تبدیل کر کے ’ٹرانزٹ سینٹر‘ رکھ دیا گیا۔ اسی کے بعد ملک میں ایک بغاوت ہوئی اور باقیوف کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد المزبیک اتم بایوف صدر منتخب ہو گئے۔ ان سے بھی انٹرویو ہوا اور ایک بار پھر مناس کا سوال اٹھا۔ باقی یوف کے برخلاف اتم بایوف خوش اور پُر سکون تھے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ اڈّے بند ہونے ہی چاہییں۔

انھوں نے کہا: ’فرض کریں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوتی ہے اور ایران مناس یا بشکیک پر بمباری کرتا ہے تو کیا ہو گا؟‘

اس بار بھی روس نے اعلان کیا کہ اگر اڈّے بند کرنے کا فیصلہ تبدیل نہ کیا گیا تو وہ کرغزستان کو لاکھوں ڈالر کا قرض دے گا۔

اڈہ بند ہو گیا۔ اختتامی تقریب پر سب سے غالب رنگ افسردگی کا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جیسے ہی فوجی مناس کے ہوائی اڈے پر طیارے سے اترے دیکھتے ہی دیکھتے خیموں والے علاقے میں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس خیمہ بستی کو ہوٹل الاسکا کہا جاتا تھا

چہرے لٹکے ہوئے تھے، تقریریں پھیکی تھیں اور تالیاں گرم جوشی سے خالی تھیں۔ مترجم بار بار اٹک رہا تھا اور امریکہ کی سفیر سے بار بار الفاظ دہرانے کی درخواست کر رہا تھا۔

آخر کرنل جان میلارڈ نے ایک علامتی چابی کرغز اہلکار کے حوالے کی۔ کیمرے کے لیے ایک فرمائشی مسکراہٹ، جذبات سے خالی ایک مصافحہ اور کہانی ختم۔

ہر چند کہ تقریروں میں کہا گیا ’امریکہ اس خطے کو نظر انداز نہیں کرے گا،‘ لیکن سب پر واضح تھا کہ وسطِ ایشیا میں امریکی موجودگی اختتام کو پہنچ رہی ہے۔

اسی بارے میں