کاسترو کی لیموزین اب ہوانا کی ٹیکسیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان 14 لیموزین گاڑیوں کو پانچ برس قبل ہوانا کے حوالےکیا گیا تھا

دنیا کے دیگر رہنماؤں کی طرح کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو نے بھی کئی سال تک سرکای لیموزین گاڑیاں استمعال کیں۔

تاہم اب حکومت نے ان پرانی روسی ساختہ لیموزین گاڑیوں کے سرکاری استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے بعد اب یہ گاڑیاں عام ٹیکسیوں کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔

کیوبا کے دارالحکومت ہوانا کی شاہراہوں پر غیر ملکی سیاحوں کو اب ان گاڑیوں میں آتے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان 14 لیموزین گاڑیوں کا ہوانا میں بطور ٹیسکی استمعال ہوتے ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں۔

ان لیموزین گاڑیوں کو چلانے والے ایک ڈرائیور موسز سوراز کا کہنا ہے کہ سرکاری کمپنی ان 14 میں سے دس گاڑیوں کو چلا رہی ہے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ’جب میں مسافروں کو بتاتا ہوں کہ یہ گاڑیاں کہاں سے آئی ہیں تو وہ پچھلی نشت پر ٹیک لگا کر اور ٹانگیں پھیلا کر حیرت سے کہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر یقین نہیں آتا۔‘

خیال رہے کہ سنہ 1960 اور 1970 کی دہائی میں بننے والی ’جے اے زیڈ‘ اور ’زیڈ آئی ایل‘ ماڈل گاڑیوں میں اعلیٰ منصب پر فائز افراد کو لایا جاتا تھا۔

تاہم اطلاعات کے مطابق کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو ذاتی استعمال کے لیے لیموزین گاڑیوں کی بجائے فوجی جیپ کو ترجیح دیتے تھے۔

اسی بارے میں