برطانوی مجاہدین کی سراغ رسانی ایم آئی5 کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس ویڈیو میں چھ جہادیوں کو دکھایا گیا ہے جو مغربی ممالک کے مسلمانوں سے شام اور عراق کی جنگ میں شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں

بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شام میں لڑنے والے برطانوی مجاہدین کی سراغ رسانی اب برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی5 کی اولین ترجیحات میں شامل ہو گی۔

یہ فیصلہ ایک ویڈیو کے آنے کے بعد کیا گیا ہے جس میں بظاہر برطانوی جہادیوں کو شام اور عراق میں لڑنے کی ترغیب دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ پولیس برائے انسداد دہشت گردی اس ویڈیو کو حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

یہ ویڈیو دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) کے جنگجوؤں سے منسلک انٹرنیٹ اکاؤنٹ سے انٹرنیٹ پر ڈالی گئي تھی جسے اب ہٹا لیا گيا ہے۔

اس ویڈیو میں موجود ایک شخص کے والد نے کہا کہ اسے دیکھ کر انھیں ’رونے کی خواہش ہو رہی تھی۔‘

انگلینڈ کے علاقے کارڈف کے 20 سالہ ناصر مثنیٰ جنھیں چار یونیورسٹیوں سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملی تھی اس ویڈیو میں وہ ابو مثنیٰ الیمنی کے نام سے نظر آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمی گذشتہ ہفتوں کے دوران عراق میں تیزی سے بڑھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ویڈیو میں ایک شخص کی پہچان ناصر مثنی کے طور پر کی گئی ہے

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے جنگجو برطانیہ پر حملہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے سکیورٹی نمائندے فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ ایم آئی5 کی اولین ترجیحات میں شام میں لڑنے والے برطانوی جہادیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا شامل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق آئی ایس آئی ایس نے 400 سے 500 برطانوی جنگجو بھرتی کیے ہیں۔ یہ جنگجو شام کے علاوہ عراق میں حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

ویڈیو میں چھ مسلح افراد کو دکھایا گیا ہے جو کہ آئی ایس آئی ایس کے کالے پرچم کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔

ان میں سے ایک کی شناخت برطانیہ کے ابو دجانہ الہندی کے نام سے کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان کے پاس ان بھائیوں کے لیے پیغام ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں۔‘

اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے تاہم بی بی سی کے نمائندے پال ایڈمس کا کہنا ہے کہ یہ آئی ایس آئی ایس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے آئی ہے اور ممکنہ طور پر اسے شام میں تیار کیا گيا ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس سے عراقی جنگ میں برطانوی جہادیوں کے شامل ہونے کے ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔‘

احمد مثنیٰ ناصر کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بیٹا بغیر کچھ بتائے ’غائب‘ ہو گیا تھا۔

ویڈیو کے بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں یہ باتیں ناصر نہیں کہہ رہا ہے بلکہ کوئی اسے اس طرح کہنے کے لیے سکھا رہا ہے کیونکہ ناصر کا رویہ اس سے صد فی صد مختلف ہے اور میرے خیال میں وہ غلط چیز کی دعوت دے رہے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے بیٹے کو سخت گیر بنا دیا گیا ہے تو انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں ہاں۔‘

واضح رہے کہ یہ ویڈیو برطانوی حکومت کے اس فیصلےکے ایک دن بعد آیا ہے جس میں اس نے آئی ایس آئی ایس کے علاوہ چار دوسرے گروہوں کے ساتھ ملنے یا اسے مالی تعاون دینے کو مجرمانہ فعل قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ ہفتوں کے دوران داعش کے جنگجوؤں نے عراق میں تیزی کے ساتھ پیش قدمی کی ہے

فوجی پیش قدمی کے علاوہ آئی ایس آئی ایس نے سوشل میڈیا مہم بھی اسی نہج پر تیز کر رکھی ہے۔

انٹرنیٹ پر انتہا پسندی پھیلانے کے خلاف کام کرنے والے یوروپین یونین کے ادارے کی مشترک صدر سشا ہاولسیک کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس سوشل نیٹ ورک پر دوسرے ریڈیکل گروپ سے مسابقت رکھتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے خیال میں ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ اپنے برانڈ کی شناخت چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں آئی ایس آئی ایس بازار میں اپنی دعویداری چاہتے ہیں اور انھوں نے انتہائی کامیابی سے اسے پورا بھی کیا ہے۔‘

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سبیسچیئن اشر کا کہنا ہے کہ ’ویڈیو میں چھ لوگ نیم دائرے میں پاؤں موڑ کے بیٹھے ہیں۔ ان کے سامنے ان کے کلاشنکوو رکھے ہیں اور پشت پر آئی ایس آئی ایس کا پرچم ہے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ کہاں ہیں تاہم ان کا پیغام بہت واضح ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آئی ایس آئی ایس کے جنگجو عراق اور شام میں اسلامی مملکت کا قیام چاہتے ہیں

انھوں نے کہا: ’یہ مغربی ممالک کے مسلمانوں سے جنگ میں ان کے ساتھ شامل ہونے کی اپیل ہے۔ یہ عراق اور شام میں لڑنے کی اپیل ہے نہ کہ ان کے اپنے ممالک میں۔ ایک کہتا ہے کہ ڈپریشن کا بہترین علاج جہاد ہے جو کہ اس کے مطابق مغرب میں مسلمان محسوس کرتے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزارت داخلہ نے کہا ہے: ’ہم آن لائن دہشت گرد اور شدت پسند پروپیگنڈہ برداشت نہیں کر تے۔ یہ ایسے لوگوں کو براہ راست متاثر کرتے ہیں جو انتہا پسندی کی جانب مائل ہیں۔

’ہم انٹرنیٹ صنعت کے ساتھ مل کر پہلے سے ہی کام کر رہے تاکہ برطانیہ اور دوسری جگہ سے ڈالے جانے والے دہشت گردانہ مواد کو ہٹایا جا سکے۔‘

وزارت داخلہ کہنا ہے کہ ’ہم دہشت گردانہ مواد کو مزید کم کرنا چاہتے ہیں اور خاندان دوست فلٹر استعمال کرکے دوسرے شدت پسندانہ مواد روکنا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں