داعش کا اہم سرحدی کراسنگ اور قصبوں پر قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی حکومت کے ساتھ برسر پیکار شدت پسندوں کی کوشش ہے کہ وہ سنی اکثریتی صوبے انبار کے تمام اہم مقامات پر قبضہ کر لیں۔

عراق میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے صوبہ انبار میں مزید ایک قصبے پر قبضہ کر لیا ہے۔

گذشتہ دو دنوں کے درمیان یہ چوتھا قصبہ ہے جس پر شدت پسندوں نے قبضہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے جس چوتھے مقام پر قبضہ کیا ہے وہ اردن کی سرحد سے 90 میل مشرق میں واقع رتبہ کا قصبہ ہے۔

اس قبل شدت پسند عراق اور شام کی اہم سرحدی کراسنگ کے ساتھ ساتھ دریائے فرات کے قریب دو قصبوں پر بھی کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مختلف سیاستدانوں اور سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ جس طرح سرکاری فوجیں شدت پسندوں کے خلاف بے بس نظر آ رہی ہیں اس پر بغداد میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ شدت پسندوں کے جنگجو سرکاری فوجیوں سے بہتر تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس نا صرف لڑنے کا بہتر تجربہ ہے بلکہ ان کے پاس فوج سے بہتر اسلحہ بھی موجود ہے۔

عراقی فضائیہ کے پاس موجود امریکی ’ہیل فائر‘ دو ہفتے پہلے ختم ہو گئے تھے اور فضائیہ کے پاس صرف دو ’سیسنا‘ طیارے ہیں جن سے یہ میزائل داغے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عراقی فضائیہ اگر طیاروں سے بمباری کرتی ہے تو اس سے عام شہریوں کے مارے جانے کا بھی خدشہ ہے۔

سنیچر کے روز شدت پسندوں نے دعویٰ کیا تھا کہ عراق اردن سرحد کے قریب واقع راوا اور عناہ کے قصبوں پر ان کا کنٹرول ہے۔ اتوار کو عراقی حکام نے شدت پسندوں کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ دن بھر جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد شدت پسندوں نے قائم کے قصبے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس لڑائی میں 30 عراقی فوجی ہلاک ہوئے۔

عراقی حکام کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ داعش کے سربراہی میں عراقی حکومت کے ساتھ برسر پیکار شدت پسندوں کی کوشش ہے کہ وہ سنی اکثریتی صوبے انبار کے تمام اہم مقامات پر قبضہ کر لیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام کے ساتھ سرحدی کراسنگ پر قبضے سے شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں کے لیے ترسیل کا ایک راستہ کُھل گیاہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحدی کراسنگ پر کنٹرول حاصل کرنے سے داعش کو دیگر علاقوں میں اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں آسانی ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے عراق کے کئی شہروں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

داعش کا دعویٰ ہے کہ اس نے شمالی عراق میں بیجی کی آئل ریفائنری اور تل عفر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے لیکن عراقی حکام اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

تاہم حکومت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بیجی کی آئل ریفائنری اور تل عفر کے ہوائی اڈے پر اسلامی شدت پسند تنظیم زبردست حملے کر رہی ہے۔

اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے دارالحکومت بغداد پر شمالی کی جانب سے دباؤ بنا رکھا ہے جہاں لڑائی جاری ہے۔ لیکن اب داعش کے جنگجو مغرب کی جانب سے بھی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے جِم میور کے مطابق انبار قصبہ قبائلی علاقہ ہے اور داعش کا کہنا ہے کہ وہ مقامی قبیلوں کے ساتھ بغیر لڑائی کے قصبوں اور دیہاتوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

رواں سال جنوری سے داعش بغداد سے 30 کلومیٹر دور فلوجہ پر قابض ہیں اور رمادی کے بھی زیادہ تر حصوں پر اس کا کنٹرول ہے۔

دولت اسلامی عراق و شام کی کوشش ہے کہ فلوجہ اور رمادی پہنچیں تاکہ شام کے ساتھ ملحق سرحد سے لے کر پوری وادی فرات پر قابض ہو جائیں۔

تاہم حکومت کے کنٹرول میں دو قصبے ہیں، ہیت اور حدیثہ، جو داعش کے منصوبے کو پورا نہیں ہونے دے رہے ہیں۔

اگر داعش کے جنگجو ان دو علاقوں پر قبضہ کر لیں تو وہ رمادی کا پورا کنٹرول حاصل کر لیں گے اور مغرب سے بغداد پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔

یاد رہے کہ ہفتے کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں مقتدیٰ الصدر کے اعلان پر شیعہ ملیشیا کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر پریڈ کی جس کے باعث بغداد میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption داعش کا دعویٰ ہے کہ اس نے شمالی عراق میں بیجی کی آئل ریفائنری اور تل عفر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے لیکن عراقی حکام اس دعوے کی تردید کرتے ہیں

مقتدیٰ الصدر نے شیعہ ملیشیا سے کہا تھا کہ وہ بغداد کی سڑکوں پر عسکری قوت کا مظاہرہ کریں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ ملیشیا کی جانب سے عسکری قوت کے مظاہرے کے بعد بغداد میں حکومت کے لیے بہت مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

امکان ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری جلد ہی عراق جائیں گے جہاں وہ ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اس بات پر زور دیں گے کہ عراقی کابینہ میں تمام فرقوں کو نمائندگی دی جائے۔

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر الزام لگتا رہا ہے کہ ان کی سنی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کچھ سنی شدت پسند جہادی تنظیم دولت اسلامی عراق و شام میں شامل ہوگئے ہیں اور عراقی فوجیوں کے خلاف جاری لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

داعش کے جنگجو بغداد سے 70 میل دور کیمیائی ہتھیاروں کے ایک متروک کارخانے پر پہلے ہی قبضہ کر چکے ہیں۔

اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کارخانے میں ایسا کوئی مواد نہیں ہے جس سے باغی کیمیائی ہتھیار بنا سکیں، لیکن امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اگر داعش کے عسکریت پسند کسی بھی فوجی تنصیب پر قبضہ کر لیتے ہیں تو ہمیں فکر ہوگی۔‘

اسی بارے میں