امریکی وزیر خارجہ مصر کے دورے پر پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جان کیری مصری صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد مصر کا دورہ کرنے والے پہلی اعلیٰ امریکی شخصت ہیں

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری مصری صدر عبدالفتح السیسی سے اہم بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچے ہیں۔

جاری کیری اتوار کو مصر پہنچے ہیں اور توقع کی جاری ہے کہ وہ دورے کے دوران مصری صدر پر سیاسی اصلاحات کرنے پر زور دیں گے اور کہیں گے کہ اخوان المسلمین کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے مصری قوم منقسم ہو رہی ہے۔

جان کیری کے ساتھ دورہ کرنے والے ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ السیسی سے بات کریں گے کہ اگرچہ وہ ملک کی سکیورٹی مشکلات سے آگاہ ہیں لیکن اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات’بہتر‘ کرنے کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیں گے۔

اس کے علاوہ ملک صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کریں گے۔

سابق فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی نے مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں یکطرفہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد رواں ماہ ہی ملک کے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا ہے

ریٹائرڈ فوجی جنرل السیسی نے گذشتہ سال جولائی میں پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو ان کے خلاف احتجاج کے بعد معزول کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے وہ معزول صدر مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کے کارکنوں کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ مرسی کی پارٹی نے حالیہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

گذشتہ روز سنیچر کو ہی مصر کی ایک عدالت نے 2013 میں ایک تھانے پر حملے کے الزام میں اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 183 کارکنوں کو دی جانے والی سزائے موت برقرار رکھی۔

جولائی 2013 میں سابق صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد حکام نے اسلامی اور سکیولر کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جس کے دوران سینکڑوں کارکن ہلاک ہوئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور سزائیں سنائی گئیں۔

مرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان کی از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے۔

گذشتہ دنوں مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور حکام نے اس جماعت کی سر عام حمایت کرنے والوں کو سزائیں دی ہیں۔

اسی بارے میں