سؤر کے بچوں پر دہشت گردی کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سؤروں کے جسم پر حکومت مخالف نعرے بھی درج تھے

یوگنڈا میں پولیس سؤر کے ان دو بچوں کی ’دہشتگردی‘ کے حوالے سے تفتیش کر رہی ہے جنھیں ملک میں بدعنوانی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے لوگوں نے پارلیمان کی عمارت کے اندر چھوڑ دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ان سؤروں کے جسم کو حکومتی پارٹی کے پرچم کے رنگوں میں رنگ کر ان پر نعرے لکھ دیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے ارکان بدعنوان ہیں۔

اس ہفتے دارالحکومت کمپالا میں اس واقعے کے بعد دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنھیں جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پارلیمان کی عمارت پر تعینات کئی پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی ترجمان پولی نمائی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان اہلکاروں پر اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کا الزام ہے۔

جہاں تک سؤر کے بچوں کا تعلق ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جانچ پڑتال بھی ایسے معاملات کی تفتیش کا ’لازمی حصہ‘ ہے جس کا مقصد اس بات کی تفتیش کرنا ہے کہ کہیں ان کو عمارت کے اندر بھیجنے کا مقصد دہشت گردی تو نہیں تھا کیونکہ اس قسم کے واقعات میں آپ کو دیکھنا ہوتا ہے کہ مظاہرین کا مقصد محض احتجاج تھا یا کچھ اور بھی تھا۔

یاد رہے کہ ان دنوں یوگنڈا میں سکیورٹی حکام کو ہائی الرٹ پر رہنے کی تاکید ہے کیونکہ یوگنڈا کی افواج صومالیہ میں اسلام پسند تنظیم الشباب کے خلاف کارروائیوں میں اقوام متحدہ کی رہنمائی میں صومالی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔

گرفتار کیے جانے والے دونوں مظاہرین پر الزام ہے کہ انھوں نے پارلیمان کی عمارت کےگرد رکاوٹوں کو مجرمانہ طور پر عبور کیا اور سؤر کے دو بچوں کو عمارت کے اندر دھکیل کر پارلیمان کی کارروائی میں خلل پیدا کرنے کی سازش کی۔

دونوں مظاہرین، جو خود کو’بیروزگار بھائی چارے‘ کا نام دیتے ہیں، کا الزام ہے کہ یوگنڈا کے ارکان پارلیمنٹ بدعنوانی اور سرکاری خزانے سے فضول اخراجات کے مرتکب ہیں۔

ان مظاہرین کے علاوہ یوگنڈا پر بین الاقوامی امدای ادارے بھی یہ تنقید کر رہے ہیں کہ ملک کو دی جانے والی امداد میں گھپلے ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں