’جاؤ جلدی سے شادی کرو‘ پر جاپان میں تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آکی ہیرو سوزوکی نے محترمہ شمورا سے تانے دینےکے حوالے سے شمورا سے معافی مانگی۔

ٹوکیو کی سٹی کونسل کے ایک رکن نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی خاتون ساتھی کو کہا تھا کہ ’جلدی سے شادی کرو۔‘

سٹی کونسل کے رکن کے اس جملے سے جاپانیوں کی ایک بڑی تعداد میں غم و غصہ پیدا ہو گیا تھا۔

سٹی کونسل کے بدھ کے روز ہونے والے ایک اجلاس کے دوران آکی ہیرو سوزوکی نے یہ بات محترمہ آیاکا شمورا کو اس وقت کہی جب محترمہ شمورا ماؤں کی مدد کے حوالے سے ایک سوال پوچھ رہی تھیں۔

گواہوں کے مطابق آکی ہیرو سوزوکی نے کہا کہ ’کیا آپ بچے نہیں پیدا کر سکتیں۔‘ لیکن سوزوکی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ سوزوکی کی باتوں سے دیگر اراکین بھی مبینہ طور پر ہنسنے لگے تھے۔

محترمہ شمورا 35 برس کی ہیں اور ان کی شادی نہیں ہوئی۔ سوالات کے بعد وہ اپنے آنسو پونچھتی نظر آئیں۔

کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے کارکن آکی ہیرو سوزوکی کا کہنا ہے کہ انھوں نے محترمہ شمورا سے معافی مانگی ہے اور اپنی پارٹی تک چھوڑنے کی پیشکش کی ہے۔

51 سالہ سوزوکی نے ٹوکیو کے سٹی ہال میں نامہ نگاروں کے سامنے محترمہ شمورا سے جھک کر معافی مانگی۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ’میری نیت کونسلر شمورا کی توہین کرنا نہیں تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں جانتا ہوں کہ کئی خواتین شادی کرنا چاہتی ہیں اور بچے پیدا کرنا چاہتی ہیں لیکن نہیں کر پاتیں۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔‘

تاہم جاپان کے سب سے بڑے اخبار آساہی شمبم کے مطابق محترمہ شمورا، جن کا تعلق حزبِ مخالف کی ’یور پارٹی‘ سے ہے، کا کہنا ہے کہ مسٹر سوزوکی نے معافی مانگنے میں دیر کر دی ہے۔

یہ واقعہ جاپان کے اکثر اخباروں کی سرورق کی سرخی بنا اور اس پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ایک آن لائن پٹیشن پر، جس میں اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ وہ سب لوگ جنھوں نے محترمہ شمورا کو طعنے دیے ان کی شناخت کی جائے اور انھیں سزا دی جائے، اب تک 70 ہزار دستخط ہو چکے ہیں۔

تاہم کئی جاپانی سیاست دان، ماہرین اور سفارت کاروں نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ محترمہ شومارا چونکہ غیر شادی شدہ ہیں اس لیے ان کو طعنے دینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

یاد رہے کہ جاپانی حکومت اس سال ایسے منصوبے شروع کرےگی جن سے ملک میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد کو بڑھایا جائےگا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جاپان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ملازمت کرنے والی خواتین کا تناسب سب سے کم ہے۔

اسی بارے میں