عراق: بغاوت کے پیچھے ہے کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption داعش میں شامل لوگوں میں اصل جہادیوں کی تعداد اس سے بہت کم ہے جو ہمیں بتائی جا رہی ہے

دولت اسلامی عراق و شام (داعش) سے منسلک جنگجؤوں نے جس برق رفتاری سے عراق میں کئی قصبوں اور تنصیبات پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے اور ملک تشدد کے ایک نئے دور میں داخل ہوا ہے، ہر کوئی یہ پوچھ رہا ہے کہ سنہ 2003 میں امریکی اور اس کی اتحادی طاقتوں کے ہاتھوں مشہور عراقی آمر صدام حسین کی برطرفی کے بعد، جس گروہ نے عراق کو سب سے بڑے خطرے سے دوچار کر دیا ہے یہ گروہ اصل میں کیا ہے۔ داعش میں شامل لوگ آخر ہیں کون؟

تمام تجزیہ کار اس بات پر تو متفق ہیں کہ داعش میں شامل افراد نے مذہب، سیاست اور عسکری مہارت کے امتزاج سے ایک ایسی طاقت ترتیب دے لی ہے جس نے مزاحمت کرنے والے عراقی فوجیوں کو روند دیا ہے اور جن فوجیوں نے داعش کے مقبوضہ علاقوں میں رُکنے کی حماقت کی انھیں اس نئی طاقت نے موت کی نیند سلا دیا۔

داعش کے اس طریقہ واردات کو جب آپ ان کی نفاذ شریعت کی دوسری بھونڈی کوششوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں جس میں وہ عام گھروں کی بجلی بند کر کے لوگوں کو ٹیلی ویژن دیکھنے کی غیر اخلاقی حرکات سے روکتے ہیں، تو آپ کے سامنے اس تنظیم کی ایک خوفناک تصویر ابھرتی ہے۔

داعش کی بس پر کون کون سوار

آئی ایس آئی ایس ایک ایسا مجموعہ ہے جس نے بظاہر شدت پسندوں کے تمام گروہوں کو گرمایا اور انھیں سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا کے ذریعے اپنے جہادی عزائم کا قائل کر کے شام اور عراق میں اپنی کارروائیوں میں شامل کیا، لیکن یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ اس تحریک میں شامل تمام لوگ واقعی کٹڑ جہادی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عراق میں داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے لوگوں میں اصل جہادیوں کی تعداد اس سے بہت کم ہے جو ہمیں بتائی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption داعش کے کئی ایک ارکان ایسے ہیں شام میں لڑنے کے بعد اب عراق میں ان کارروائیوں کا حصہ بن چکے ہیں

بلکہ عراق میں بھی وہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو ہم شام میں پہلے ہی دیکھ چکے ہیں جہاں کئی افراد شدت پسند تحریکوں کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان افراد کے بڑے سیاسی عزائم ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تاہم ان سب میں یہ چیز مشترک ہے کہ یہ سب کے سب راسخ العقیدہ اسلامی رہنماؤں کا لبادہ اور طور اطوار اپنا لیتے ہیں۔

اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ عراق میں بھی صورت حال شام سے مختلف نہیں ہے اور داعش کے نام کے تحت جو جہادی گروہ کارروائیاں کر رہے ہیں وہ بھی مختلف افراد اور ان کے پیروکاروں کا ملغوبہ ہے۔

داعش کے کئی ایک ارکان ایسے ہیں جو شام میں لڑنے کے بعد اب عراق میں ان کارروائیوں کا حصہ بن چکے ہیں جن میں جہادی طاقتیں ملک کے اہم قصبوں اور شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں۔

اگرچہ عراق میں حالیہ عدم استحکم کے تانے بانے پڑوسی شام میں ایک عرصے سے جاری تنازعے سے ملتے ہیں، تاہم عراق کی شورش کا اصل ہدف شدت پسند اسلامی گروہوں کی حمایت کرنا نہیں بلکہ ملک کی داخلی سیاسی توڑ پھوڑ سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنا ہے۔

حالیہ دنوں میں برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلامک آرمی آف عراق کے رہنما شیخ احمد الدباش کا کہنا تھا کہ ’عراق کے تمام سنی گروپ اب وزیرِاعظم نوری المالکی کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں۔

’اس میں عراقی فوج کا کچھ حصہ بھی شامل ہے، صدام حسین کے دور کے بعث پارٹی کے ارکان بھی اور کئی ملا بھی۔ الغرض ہر وہ شخص باہر آ گیا ہے جس کو (نوری المالکی) نے دبایا ہوا تھا۔‘

دور دور تک پھیلی ہوئی مایوسی

یہ کہنا کہ عراق میں جو ہو رہا ہے وہ محض چند جنونی انتہا پسندوں کا کیا دھرا ہے، اس معاشرتی ناہمواری سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا جو عراق میں حقیقتاً پائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جب بھی داعش کا پالا عراق کی سرکاری فوج سے پڑا ہے، باغیوں کی کارکردگی سرکاری فوجیوں سے بہتر رہی ہے۔

گذشتہ دنوں جب میں عراق کے مختلف علاقوں میں گیا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کچھ لوگ کس قدر غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں کہ داعش کے زیر اہتمام دارالحکومت بغداد کی جانب مارچ کرنے والے گروہوں میں شامل تمام لوگ وہ جہادی ہیں جو سب کچھ تباہ کرنے اور ملک میں اسلامی خلافت قائم کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ بلکہ یہ تحریک دراصل شمال مغربی عراق کی غریب آبادیوں کی محرومیوں اور عراقی حکومت کی بدعنوانی اور بُری پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

جہاں تک عسکری محاز کا تعلق ہے، تو وہاں پر داعش کے جنگجوؤں کی کارکردگی سرکاری فوجیوں سے بہتر رہی ہے۔

میں نے جب کُرد پیشمرگا فوج کے افسران سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ’ہمارے ہاں فوجیوں کی تربیت کا معیار بہت اچھا ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے فوجیوں کو تکریت میں اہم مقامات پر کنٹرول قائم رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔زیادہ تر مقامات پر ہم نے اپنا کنٹرول قائم رکھا، لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ (آئی ایس آئی ایس) کے لوگ تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس اسلحہ بھی اچھا ہے۔‘

وقتی اتحاد

داعش کے جنگجؤوں کی اچھی کارکردگی سے اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ان کی عسکری کارروائیوں کی نگرانی بعثت پارٹی کے سابق فوجی افسران کر رہے ہیں۔ اس بات کی تصدیق بدھ کو اس وقت بھی ہوئی جب میں نے اس مسئلے پر کرکوک میں سیکورٹی اہلکاروں سے بات کی۔

دیکھا جائے تو یہ ایک عجـیب قسم کا اتحاد ہے کیونکہ صدام کے حامی بعثیوں اور اسلامی رجعت پسندوں کے اہداف ایک دوسرے سے یکسر مختلف، بلکہ متصادم ہیں۔ ان دونوں کے اہداف اس قدر متصادم ہیں کہ ان کا اتحاد آخر کار تحریک کے لیے نقصاندہ ثابت ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption داعش کی جانب سے لڑنے والے افراد نورالمالکی کی پالیسیوں سے مایوس ہیں

داعش کی جانب سے لڑنے والے افراد نورالمالکی کی ان پالیسیوں سے مایوس ہیں جس کے تحت انھیں الگ تھلگ رکھا جاتا رہا ہے۔

عراق کے سرکاری حلقوں کو امید ہے کہ جلد ہی عراقی فوج، 300 امریکی فوجی ماہرین اور ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کی مدد سے داعش کی چڑھائی کو روکنے میں کامیاب ہو جائےگی تو پھر باغیوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے اور ان کی باہمی تفریق سامنے آنا شروع ہو جائے گی۔

تاہم ابھی تک یہ اتحاد قائم ہے اور جب تک داعش بغداد کی جانب پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے، آنے والے دنوں میں سرکاری فوج اور داعش کے درمیان لڑائی کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔

لیکن اگر بغداد میں بیٹھی ہوئی حکومت کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ عراق میں سیاسی اصلاحات اتنی ہی ضروری ہیں جتنی ضروری سکیورٹی ہے، تو عراق کے مسائل ایک طویل عرصے تک حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

یہ مضمون قطر میں قائم رائل یونائیٹڈ انسٹیٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل سٹیفنز کا لکھا ہوا ہے جو آج کل عراق اور عراقی کردستان میں ہیں اور وہاں سے بلاگ لکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں