برازیلی فٹبالروں کا انداز

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برازیل کی موجودہ ٹیم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ دنیائے فٹبال میں اس ٹیم کے کھلاڑیوں کے اجسام پر سب سے زیادہ ٹیٹو بنے ہوئے ہیں

چاہے وہ فٹبال کا عالمی کپ چیتیں یا نہیں، برازیلی کھلاڑیوں نے پہلے ہی اپنے ہر قدم پر نظر رکھنے والے ملک کے عوام پر اپنے نشان چھوڑ دیے ہیں۔

برازیل کی موجودہ ٹیم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ دنیائے فٹبال میں اس ٹیم کے کھلاڑیوں کے اجسام پر سب سے زیادہ ٹیٹو بنے ہوئے ہیں۔

23 میں سے 17 کھلاڑیوں کے جسم پر ٹیٹو نظر آتے ہیں اور یہ رجحان ٹیم کے حامیوں میں بھی مقبول ہو رہا ہے۔

ٹیٹو بنانے والے فنکاروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران دینیئل آلوس، مارسیلو اور نیمار سمیت دیگر کھلاڑیوں کی طرح کے ٹیٹو بنوانے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

19 سالہ ایلیسانڈرو کورادینی نیمار کے بہت بڑے مداح ہیں اور انھوں نے نیمار کے پانچوں ٹیٹوؤں میں ہلکی سی تبدیلیاں کر کے اسی فنکار سے یہ ٹیٹو بنوائے ہیں جس نے نیمار کے لیے یہ ٹیٹو بنائے تھے۔

Image caption 19 سالہ ایلیسانڈرو کورادینی نیمار کے بہت بڑے مداح ہیں اور انھوں نے نیمار کے پانچوں ٹیٹو میں ہلکی سی تبدیلیاں کر کے اسی فنکار سے یہ ٹیٹو بنوائے ہیں جس نے نیمار کے لیے یہ ٹیٹو بنائے تھے

بی بی سی برازیل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نیمار کا انداز پسند ہے، تاہم میرے ٹیٹو میرے لیے پرسنل ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ مجھے ان کے بنوانے پر پچھتاوا ہوگا۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میں نے ایسے مداح بھی دیکھے ہیں جنھوں نے نیمار کا نام اپنے منہ پر ٹیٹو کروایا ہے۔ میں بہت بڑا مداح ہوں مگر میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔‘

ایلیسانڈرو کورادینی کے والد اٹلی اور والدہ برازیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھیں نیمار کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب ان کی والدہ انھیں برازیل کے مقبول ترین کھلاڑی نیمار کے کلب سانتوس کا ایک میچ دکھانے لے گئیں۔

ایلیسانڈرو خود بھی فٹبال کھیلتے ہیں اور وہ اٹلی میں اپنا کیریئر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مستقل طور پر برازیل منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ وہ اپنی والدہ کے قریب رہ سکیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے پسندیدہ سٹار سے مل سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nautica Tatoo
Image caption میں نے ایسے مداح بھی دیکھے ہیں جنھوں نے نیمار کا نام اپنے منہ پر ٹیٹو کروایا ہے: ایلیسانڈرو کورادینی

برازیلی کھلاڑی ایلکساندرے پاتو اور چلی کے خورخے بالدیویا کے ٹیٹو بنانے والے ساؤ پالو میں ٹیٹو آرٹسٹ اکمی ہگاشی کا کہنا ہے کہ فٹبالروں کے ٹیٹو بنوانے کے رجحان کی وجہ باڈی آرٹ کے ذریعے اظہارِ تشکر بھی ہے۔

انھوں نے اس رجحان کا ذمہ دار برطانوی کھلاڑی ڈیوڈ بیکم کو ٹھہرایا جنھوں نے اپنے جسم پر بہت سے ٹیٹو بنوا رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی کھلاڑی بیکم جیسا ٹیٹو بنوانا چاہتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ان سے پہلے آپ کو فٹبالروں پر ٹیٹو نظر نہیں آتے تھے۔ یہ رجحان انھی کا شروع کردہ ہے۔‘

اسی بارے میں