جماعت الدعوۃ سمیت چار تنظیمیں دہشت گرد قرار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید کو بھی امریکہ دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور انھیں پكڑوانے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا گیا ہے لیکن وہ پاکستان میں کھلے عام گھومتے ہیں اور جلسے جلوس نکالتے ہیں

امریکی دفتر خارجہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ترمیم کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ سمیت لشکر طیبہ سے منسلک چار تنظیموں کو اس فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ چاروں تنظیمیں دراصل لشکر طیبہ ہی کے مختلف نام ہیں اور پابندیوں سے بچنے کے لیے یہ جماعت بار بار اپنا نام بدلتی رہتی ہے۔

جن چار تنظیموں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں جماعت الدعوۃ، انفال ٹرسٹ، تحریکِ حرمتِ رسول اور تحریکِ تحفظِ قبلۂ اول شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی وزارتِ خزانہ نے لشکر طیبہ کے دو اعلیٰ رہنماؤں نذیر احمد چوہدری اور محمد حسین گل کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق نذیر احمد چوہدری سنہ 2000 کے ابتدائی دنوں سے لشکر کی حکمتِ عملی سے منسلک رہے ہیں اور محمد حسین گل لشکر کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں اور اس وقت تنظیم کی مالی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔

دہشت گردوں کی اس فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکہ کی جانب سے ان تنظیموں اور افراد کے امریکی قانونی کنٹرول میں ممکنہ مالياتي اثاثے منجمد کر لیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد اب کسی امریکی شہری کو بھی ان کے ساتھ مالياتي تعلقات رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے معاملات سے منسلک امریکی محکمے کے اہلكار ڈیوڈ کوہن کا کہنا ہے کہ امریکہ لشکر طیبہ کی معاشي بنیاد کو توڑنا جاری رکھے گا جس سے اس کے تشدد پھیلانے کے منصوبوں کو روکا جا سکے گا۔

امریکہ نے 2001 میں لشکر طیبہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لشکرِ طیبہ نے 2008 کے ممبئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 163 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ 2011 میں جموں اور کشمیر میں کئی حملوں کے لیے بھی لشکر ذمہ دار ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق لشکر طیبہ اب افغانستان میں بھی حملے کر رہا ہے اور 23 مئی 2014 کو ہرات میں بھارتی قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں بھی لشکرِ طیبہ ہی کا ہاتھ تھا۔

امریکہ جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید کو بھی دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور انھیں پكڑوانے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا گیا ہے لیکن وہ پاکستان میں کھلے عام گھومتے ہیں اور جلسے جلوس نکالتے ہیں۔

پاکستانی فوج پر الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ لشکر طیبہ کو فروغ دیتی ہے اور انھی کی مدد سے لشکر اپنی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے، تاہم پاکستانی فوج ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے۔

اس پابندی پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے جنوبی پنجاب میں چیف کوارڈینیٹر ابو محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لشکرِ طیبہ کشمیری تنظیم ہے جو وہاں آزادی کے لیے سرگرم ہے جبکہ جماعت الدعوۃ پاکستان کی مذہبی تنظیم ہے اور اس کا النفال ٹرسٹ مساجد اور مدارس کی تعمیر کا کام کرتا ہے۔

انھوں نے جماعت الدعوۃ کو لشکرِ طیبہ کے متبادل نام قرار دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت الدعوۃ اس وقت سے بن گئی تھی جب لشکر طیبہ پر ابھی پابندی نہیں عائد ہوئی تھی۔

اسی بارے میں