شام میں باغیوں کی امداد کے لیے کانگریس سے 50 کروڑ ڈالر کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ امداد شام میں سویلین اور مسلح شامی باغیوں کی مدد کرنے کی اوباما انتظامیہ کی پالیسی کے سلسلے کی کڑی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے شام میں باغی افواج کی تربیت اور ساز و سامان مہیا کرنے کے لیے کانگریس سے 50 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس رقم کی مدد سے شامی عوام بشار الاسد کی فوجوں کے خلاف اپنا دفاع کر سکیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس امداد سے دولت اسلامی عراق و شام (داعش) جیسی اسلامی شدت پسند تنظیموں کا بھی مقابلہ ہو سکے گا۔

ہمسایہ ملک عراق میں داعش کی پیش قدمی کی وجہ سے کانگریس کے کچھ اراکین نے صدر اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ شام کی صورتحال کے حوالے سے اقدام کریں۔

شام میں گذشتہ تین سال سے صدر بشار الاسد کے حامی فوجیوں اور باغیوں کے درمیان جاری خانہ جنگی کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بےگھر ہو چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ امداد شام میں سویلین اور مسلح شامی باغیوں کی مدد کرنے کی اوباما انتظامیہ کی پالیسی کے سلسلے کی کڑی ہے۔

’اس سے وزارتِ دفاع بھی تصدیق شدہ مسلح باغیوں کی مدد کر سکے گی۔‘

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس رقم سے باغی فوجیوں کے کنٹرول والے علاقوں کو بھی مستحکم کیا جا سکے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے مخالف لوگوں کے ہاتھوں میں امداد پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر رقم کی تقسیم سے پہلے باغیوں کی چھان بین کی جائے گی۔

صدر اوباما پر شام میں کارروائی کرنے کے لیے کانگریس کی طرف سے شدید دباؤ رہا ہے۔

گذشتہ ماہ ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی میں تقریر کرتے ہوئے صدر اوباما نے شامی باغیوں کی مدد کرنے کی طرف اشارہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے شام کی طرح عراق میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیشِ نظر امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر عراق میں شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکی زمینی فوج عراق میں لڑائی میں شرکت کے لیے نہیں جائے گی۔

عراق میں داعش کے خلاف لڑنے اور شام میں داعش کے مخالف یعنی بشار الاسد کے خلاف بھی جنگ کرنے کی امریکی پالیسی پر دنیا بھر میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں