امریکہ میں منشیات کے استعمال میں اضافہ ہوا: اقوامِ متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ کے مطابق سنہ 2008 سے لے سنہ 2012 تک امریکہ میں 12 سال یا اس زیادہ عمر والے ایسے افراد کی تعداد میں دس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جنھوں نے چرس پینے کا اعتراف کیا

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں گانجے کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ہسپتالوں کے ہنگامی شعبوں میں آنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

یو این او ڈی سی یا اقوامِ متحدہ کے منشیات اور جرائم کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ امریکہ میں گانجے کی قوت میں اضافہ ہوا ہے، ہے جس کی وجہ سے یہ مزید نقصان دہ ہو گیا ہے۔

یو این او ڈی سی کے تحقیقاتی شعبے کی سربراہ انگیلا می نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دنیا کے بعض حصوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ منشیات میں ذہنی انتشار پیدا کرنے والا کیمیائی مادہ ٹی ایچ سی بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دو امریکی ریاستوں میں منشیات کے حوالے سے قانون سازی کا گانجے کے استعمال پر کوئی اثر ہوا ہے یا نہیں۔ واشنگٹن نے سنہ دسمبر سنہ 2012 اور کولاراڈ نے اسی سال جنوری میں چرس کی ملکیت کو قانونی قرار دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2012 اور سنہ 2013 کے درمیان دنیا میں افیون کی کاشت میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں مزید کیا گیا ہے کہ امریکہ میں اس سوچ کے باعث گانجے کا استعمال بڑھا ہے کہ اس کا استعمال کم نقصان دہ ہے، تاہم دنیا بھر میں منشیات کے استعمال میں کمی دکھائی دے رہی ہے۔

رپورٹ میں امریکی حکومتی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ وہاں سنہ 2006 اور سنہ 2010 کے درمیان ہسپتالوں کے ہنگامی شعبوں میں منشیات کے استعمال کی وجہ سے لوگوں کی آمد میں 56 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی دوران منشیات کے غلط استعمال کی وجہ سے علاج کے مراکز میں لوگوں کے داخل ہونے میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2008 سے لے سنہ 2012 تک امریکہ میں 12 سال یا اس زیادہ عمر والے ایسے افراد کی تعداد میں دس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جنھوں نے چرس پینے کا اعتراف کیا۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں افیون کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے، بالخصوص افغانستان میں، جہاں سنہ 2013 میں 209000 ایکڑ رقبے پر افیون کاشت کی گئی۔

اسی بارے میں