دنیا کی اولین ہائی جیکنگ؟

طیارہ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک عرصے تک اس طیارے کے اغوا کا معاملہ واضح نہیں ہوا۔ اس طیارے کو اس وقت کے کیرن باغیوں نے اغوا کیا تھا۔ پہلی ہائی جیکنگ کے اس واقعے اب فلم بنائی جا رہی ہے۔

دنیا کا سب سے پہلا طیارہ 60 سال پہلے اغوا ہوا تھا۔ اس مسافر طیارے کو اغوا کر کے برما کے ایک ویران ساحل پر اتارا گیا۔ ایک عرصے تک اس طیارے کے اغوا کا معاملہ واضح نہیں ہوا۔ اب اس پہلی ہائی جیکنگ کے اس واقعے اب فلم بنائی جا رہی ہے۔

طیارے کو کیرن باغیوں کے ایک ہمدرد ساو کیاؤ نے اغوا کیا تھا۔

ساؤ کیاؤ ہاتھوں میں دستی بم پکڑنے کی اداکاری کرتے ہیں۔ اپنی کرسی پر سے کھڑے ہو کر وہ دستی بم کے پِن والے حصے کودانتوں کے قریب لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد 87 سالہ ساؤ کیاؤ اپنی آنکھیں بند کر کے گویا 60 سال قبل کے دور میں داخل ہو جاتے ہیں۔

یہ 1954 ہے اور وہ ڈکوٹا ڈی سی 3 کے کاک پٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ طیارہ اغوا کرنے کا مقصد اُسے برما کی کیرن قوم کے لیے ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے استعمال کرنے تھا۔

ہائی جیکر نے پائلٹ کو دستی بم دکھاتے ہوئے کہا: ’کیپٹن اے ای ہیرے، میں تو اپنی کیرن قوم کے لیے جان دے رہا ہوں، تمھارے پاس مرنے کا کیا جواز ہے؟‘

پائلٹ کو صورتحال اور خطرے کی نوعیت سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ وہ طیارے کو ہائی جیکر کے کہنے کے مطابق برما کے مغربی ساحل کی طرف موڑنے پر تیار ہو گیا۔

اس وقت رنگون کے مشرقی اور مغربی حصے پر کیرن باغیوں کا کنٹرول تھا اور وہ اس طیارے کو دونوں حصوں کو ملانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

اگلے تین گھنٹے تک کیاؤ نقشے پر وہ جگہ تلاش کرتا رہا جسے رن وے کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن شاید ان سے کوئی غلطی ہو چکی تھی۔

ایک طرف تو باغیوں کا ہوائی اڈا نہیں مل رہا تھا اور دوسری طرف طیارے میں ایندھن ختم ہو رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہائی جیکر ساؤ کیاؤ کی کہانی کتابی شکل میں گذشتہ سال شائع ہو چکی ہے۔ پرنٹ میڈیا پر سنسر شپ نرم ہو چکی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے ’دنیا کی پہلی ہائی جیکنگ‘ جو ظاہر ہے گمراہ کن ہے

آخر پائلٹ اور ہائی جیکر نے طیارے کو ساحل کی ریت پر اتارنے کا فیصلہ کیا۔

لینڈنگ کے لیے طیارے کی پہلی دو کوششیں ناکام رہیں۔ تیسری کوشش میں طیارہ دھڑدھڑاتا اور لڑکھڑاتا ہوا ریت میں دھنس کر رک گیا۔

جب باغیوں نے تمام مسافروں کو اتار کر ایک طرف کھڑا کر لیا تو کچھ نے طیارے کی تلاشی لی۔ طیارے کے سامان والے حصے میں دھات کے بنے ہوئے صندوقوں میں سات لاکھ برمی کیات کی رقم تھی۔

یہ رقم مختلف بینکوں کی تھی۔ آج اس رقم کی مالیت سات سو ڈالر یا چار سو برطانوی پاؤنڈ بنتی ہے، لیکن تب یہ بہت بڑی رقم تھی۔

ساؤ کیاؤ نے ہنستے ہوئے کہا: ’ہم نے دشمنوں کی رقم سمجھتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد جہاز کے عملے اور مسافروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔‘

ریتیلے ساحل سے طیارے نے کیسے ٹیک آف کیا اور کیسے واپس گیا، ساؤ کیاؤ کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں کیونکہ وہ تو باغیوں کے ساتھ ساتھ لگے جنگل میں فرار ہو گیا تھا۔

ہالی ووڈ اس واقعے پر فلم بنا رہا ہے، لیکن کیا برما کی فوجی حکومت اور سنسر کے کڑے قوانین کی موجودگی میں برما میں یہ فلم بن سکے گی؟

کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ برمی فوجی تو کسی قیمت پر یہ نہیں چاہیں گے کہ ایک ایسی تاریخی بات یاد کی جائے جس میں آزادی پر یقین رکھنے والے برمی باغی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک طیارے کو اغوا کر رہے ہوں۔

ساؤ کیاؤ کی کہانی کتابی شکل میں گذشتہ سال شائع ہو چکی ہے۔ برما میں پرنٹ میڈیا پر سنسر شپ نرم ہو چکی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے، ’دنیا کی پہلی ہائی جیکنگ۔‘

ساؤ کیاؤ کی کتاب کا یہ نام گمراہ کن ہے۔ کیونکہ اگر ہم انٹرنیٹ پر تھوڑی سے بھی تلاش کریں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ طیارے کے اغوا کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ طیاروں کے اغوا کے چار واقعات اس سے پہلے ہو چکے تھے۔

فلم بنانے والوں کے لیے حقیقت میں یہ تبدیلی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ان کی تیاریاں جاری ہیں۔ اسی گمراہ کن نام کے ساتھ۔

برمی حکومت فلم سنسرشپ کے قوانین کی موجودگی کے باوجود فلم کے سکرپٹ کی منظوری ہی نہیں دے چکی بلکہ فوجی طیارہ بھی ادھار پر دینے کے لیے تیار ہو چکی ہے۔

اس فلم کو انتھونی نامی ڈائریکٹر بنا رہے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں اس کی توقع نہیں تھی۔ وہ تو 11 سال سے ایک ایسی فلم بنانے کی کوشش میں ہیں جسے سنسر پاس کر دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کہا جاتا ہے کہ کیرن باغیوں کے کئی لیڈر ایسے تھے جو بعد میں کبھی کسی کے سامنے نہیں آئے یا ممکن ہے کہ انھوں نے زندگی ایسے گزاری کہ انھیں کوئی پہچان ہی نہ سکا

ان کا کہنا ہے: ’یہ انتہائی حوصلہ شکن بات تھی کہ جیسے ہی کہیں باغی کا لفظ آتا اور ’نہیں نہیں‘ کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتیں‘۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایک فلم کا نام ’ماں مت رو‘ رکھنا چاہا لیکن اسے جمہوریت نوازی اور آنگ سان سوچی کی مہم کہہ کر مسترد کر دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ ہم صرف مزاحیہ فلمیں ہی بناتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور لگتا ہے کہ سنسر نے بھی خود کو حالات کے ساتھ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ساؤ کیاؤ کی ہائی جیکنگ بہر صورت ایک کہانی ہے۔ وہ اس واقعے کے بعد عیسائی مبلغ بن گئے اور پھر انھوں نے باغیوں اور حکومت درمیان مذاکرات کار کا بھی کردار ادا کیا۔

جہاں تک کیرن تنازعے کا تعلق ہے، 60 سال گزر چکے ہیں اور اب تک اس کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔

اسی بارے میں