یوکرین سمیت تین ممالک یورپی یونین کے ساتھ تعاون پر متفق

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسٹر پوروشنکو (درمیان میں) کا کہنا ہے کہ ’یہ معاہدہ ایک دوسرے پر یقین اور مصمم ارادے کی علامت ہے‘

روس کی شدید مخالفت کے باوجود یوکرین، جارجیا اور مولدووا نے یورپی یونین کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کر لیا ہے۔اس معاہدے سے یہ تینوں ممالک معاشی اور سیاسی لحاظ سے مغرب کے قریب تر ہو جائیں گے۔

روس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر ریاست کو حق حاصل ہے کہ وہ جو معاہدہ چاہے کرے لیکن اس معاہدے کے برے نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری جانب اقوم متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران مشرقی یوکرین میں مہاجرین کی تعداد میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور 16 ہزار سے زائد افراد علاقے سے نکل گئے ہیں۔

یاد رہے کہ مشرقی یوکرین میں یوکرینی حکومت اور روس نواز باغیوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کی معیاد جمعے کو ختم ہو رہی ہے، تاہم روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان بات چیت کے لیے طویل المدت جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کو سراہتے ہوئے اسے سنہ 1991 میں ملک کی آزادی کے بعد ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ مسٹر پوروشنکو کا کہنا تھا کہ وہ اس معاہدے پر دستخطوں کو یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی جانب پہلا قدم سمجھتے ہیں۔ اس معاہدے سے ’یورپی یونین کے حق میں فیصلہ کر کے یوکرین نے بتا دیا ہے کہ وہ خود مختار ہے۔ یہ معاہدہ ایک دوسرے پر یقین اور مصمم ارادے کی علامت ہے‘

یورپیئن کونسل کے صدر نے بھی اس معاہدے کو ’یورپ کے لیے ایک عظیم دن‘ سے تعبیر کیا ہے۔ تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کونسل کے صدر نے کہا کہ ’ آج یورپ پہلے سے کہیں زیادہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں ایسی کوئی چیز نہیں جس سے روس کو کسی بھی قسم کا کوئی نقصان پہنچے۔

لیکن صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کی طرف سے یوکرین کو اس مصنوعی انتخاب پر مجبور کرنے سے کہ وہ روس یا یورپی یونین میں سے کسی ایک کو منتخب کرے، یوکرین کو بٹوارے اور اندرونی خلفشار کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔‘ صدر پوتن کے مطابق یوکرین کے تنازعے سے سب سے زیادہ متاثر یوکرین کے پُرامن شہری ہوئے ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں روس کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

معاہدے سے قبل کریملن کے سینیئر مشیر سرجیو گلازیو نے یوکرین کے صدر کو ’نازی‘ ہونے کا طعنہ دیا اور کہا کہ مسٹر پوروشنکو کی صدارت غیر قانونی ہے کیونکہ یوکرین کے کئی علاقوں میں رائے دہندگان نے مئی میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ہی نہیں ڈالے تھے۔

روسی مشیر کا کہنا تھا کہ مسٹر پوروشنکو کے پاس یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اس معاہدے سے یوکرین کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ بعد میں صدر ولادی میر پوتن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ رائے سرجیو گلازیو کی ذاتی رائے ہے اور یہ بیان روسی حکومت کی سرکاری پوزیشن کی عکاسی نہیں کرتا۔

اسی بارے میں