فیس بُک کی عدالت کے خلاف قانونی چارہ جوئی

فیس بُک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عدالتی فیصلے میں فیس بُک کو ’ڈیجیٹل جاگیردار‘ کہا گیا ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک امریکی عدالت کے اُس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رہی ہے جس کے تحت فیس بُک کو ایسے تقریباً 400 لوگوں سے متعلق ڈیٹا عدالت کو دینا پڑا جن پر سرکاری مراعات لینے میں دھوکا دہی کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے اُسے کہ کسی بھی سرکاری ادارے سے ملنے والی اب تک کی سب سے بڑی درخواست ہے۔

گذشتہ برس نیویارک کی ایک عدالت کو ان لوگوں سے متعلق فوٹو گراف، نجی پیغامات، اور دیگر معلومات عدالت کو فراہم کی گئی تھیں تاہم جج نے اس معاملے کو اسی ہفتے عام کیا ہے۔

فیصلے میں فیس بُک کو ’ڈیجیٹل جاگیردار ‘ کہا گیا ہے۔

جج کا کہنا تھا کہ کمپنی کو سرچ وارنٹ پر عمل کرنا ہوگا۔

اس مقدمے میں ایسے لوگوں کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی تھیں جو معذوری سے متعلق سرکاری مراعات حاصل کر رہے تھے اور جن کے فیس بُک اکاؤنٹ سے یہ معلوم ہوا کہ دراصل وہ بالکل صحت مند ہیں۔

عدالت نے فیس بُک سے کہا کہ وہ 381 اکاؤنٹس کی تفصیلات مہیا کرائے جس میں اس طرح کے لوگوں کے خلاف شہادتیں موجود ہیں۔

اس کے بعد ان 381 لوگوں میں سے 62 لوگوں کے خلاف فراڈ کا کیس درج کر لیا گیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے مدعہ علیہان اپنی جسمانی، دماغی اور سماجی صلاحیتوں کے بارے میں حکومت سے جھوٹ بولتے رہے جبکہ ان کے فیس بُک کے اکاؤنٹس کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے تھے۔

اسی بارے میں