امریکہ میں پاکستانی آم کی دھوم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں پلا بڑھا، امریکہ کا ہر روز ذکر سنا تو سوچا امریکہ چلتے ہیں

جو عام ہوتا ہے وہ ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ تھانے میں رپورٹ لكھواني ہو، ریلوے کا ریزرویشن کروانا ہو، راشن کارڈ بنوانا ہو، سکول میں بچے کا داخلہ کروانا، عام ہمیشہ گالیاں سنتا ہے، سرکاری بابو کی جھڑكياں سنتا ہے، بھیڑ کے دھکے کھاتا ہے، پٹتا ہے، گڑگڑاتا ہے۔ چودھراہٹ تو بس خاص کی ہوتی ہے۔

لیکن جس آم کی میں بات کر رہا ہوں وہ دیسی لوگوں کے لیے ہمیشہ خاص ہوتا ہے۔ پھلوں کا شہنشاہ کہلاتا ہے۔ اکبر کا دربار ہو یا مودی کی حکومت اس کی ہمیشہ پوچھ رہی ہے۔

لیکن جب زیادہ پوچھ ہوتی ہے تو بڑے بڑوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ یہ بیچارا تو آم ہے۔ اسے بھی لگا ملک میں بہت عیش کر لی اب ذرا پردیس چلتے ہیں۔

پاکستان میں پلا بڑھا، امریکہ کا ہر روز ذکر سنا تو سوچا امریکہ چلتے ہیں۔ اب اسے کیا پتہ کہ یہاں بڑے بڑے دیسی وی آئی پی امریکی سكيورٹي کے چکر میں بے آبرو ہو چکے ہیں۔ جارج فرناڈیز ہوں، عبدالکلام ہوں، شیخ رشید احمد ہوں یا شاہ رخ خان ہوں سب ایک برابر۔

اب شاہ رخ خان کو تو اتنا غصہ آیا کہ انھوں نے اپنی بے عزتی پر ایک پوری فلم ہی بنا ڈالی اور کود کود کر پوسٹر ہلاتے رہے ’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ‘۔

اس دیسی آم کا نام نہ تو خان تھا، نہ ہی بیچارے نے مذہب والے کالم میں مسلمان لکھا تھا۔ لیکن پاکستان سے امریکہ آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بھائی، ہوم لینڈ کا خوف تو لازمی ہے۔

امریکہ آنے کے لیے کئی برس تک تو امریکی ویزا کے چکر میں پڑا رہا۔ بڑے بڑے وزیروں اور سینیٹروں کا خط لے کر گیا لیکن یہاں تو کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔

اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک ایک پیلے اور پلپلے عام سے کیوں گھبرا رہا ہے۔

کسی نے بتایا کہ امریکہ کو خوف لاحق ہے کہ کہیں عام کے اندر گھس کر کوئی پاکستانی کیڑا ان کی سرحد میں نہ گھس آئے۔ اس لیے جیسے آگ میں کود کر سیتا میّا نے امتحان دیا تھا ویسے ہی اسے بھی امریکی ریڈيشن مشینوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور ساتھ ہی اس کا خرچ بھی برداشت کرنا ہوگا۔

لیکن پٹّھے نے ہمت نہیں ہاری۔ اس سال کود گیا ریڈيشن مشین کے سامنے۔ مختصر سا دیسی دماغ بھی لگایا۔ پتہ کر لیا کہ شکاگو میں ریڈيشن مشین کا خرچ ایک کلو پر پانچ ڈالر ہے جبکہ ٹیکساس میں صرف پچاس سینٹ ہے۔

تو تیاری پوری ہوئی، دوستوں یاروں کو ٹاٹا اور بائی بائی کیا، باکس میں بند ہوا اور پہنچ گیا ٹیکساس کے ہیوسٹن اور ڈیلس شہر۔ دیسی لوگوں نے اس گرمجوشی سے گلے لگایا کہ مت پوچھیں، بس بینڈ اور باجے کی کمی رہ گئی۔ بھارتی، پاکستانی، بنگلہ دیشی سب پہنچے اور دو گھنٹے کے اندر دکانیں خالی۔

دیسیوں کی چھوٹی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر آم پہنچ گیا ان ایئركنڈيشنڈ گھروں میں اور پھر سے بن گیا خاص۔ بڑے سے عالیشان ریفریجریٹر میں پھیل گیا، سوچ رہا تھا یہاں تو پاکستان کی طرح بجلی جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ایک نے راستہ دکھا دیا ہے تو اب اور آم آنے والے ہیں۔ اس بار نیویارک کی سیر کا ارادہ ہے۔

اور جیسے امریکہ میں کچھ برس پہلے آیا دیسی دوسرے دیسی کو اس نظر سے ناپتا ہے کہ اچھا، تو تم بھی گھس آئے یہاں۔ ان دنوں اسی نظر سے پاکستانی عام کو ہندوستانی عام گھور رہے ہیں۔

ہندوستانی الفانزو کہہ رہا ہے میں تو 35 ڈالر میں تین کلو فروخت ہوتا ہوں، تیری اوقات کیا ہے میرے سامنے؟

پاکستانی آم نیا ہے تو اس نے جواب نہیں دیا بس پھسپھسایا۔ سنبھل کر رہنا، میرے اور بھی بھائی آر ہے ہیں۔ یورپ میں تو تمہارے گھسنے پر پابندی لگ ہی گئی ہے، امریکی دیسيوں کو کہیں میری لت لگ گئی تو پھر تمہارا یہاں سے بھی پتہ صاف ہو جائے گا۔

اور ہاں آپ بھی ذرا اپنے آموں پر نظر رکھیں۔ جب آم گاؤں سے شہر گئے توگاؤں والوں کو ٹھینگا دکھا دیا۔ اب انہیں امریکہ کا چسكا لگا ہے تو پھر پورے ملک سے ہی ندارد ہو جائیں گے۔ امریکی دیسی آام کھائیں گے، آپ گٹھلياں گننا!

اسی بارے میں