تاجکستان میں طلاق کے مسئلے کا حل نان روٹی

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY
Image caption بعض لوگوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنےکی ضرورت ہے

تاجکستان کے شمالی صوبے کے سکولوں میں لڑکیوں کو گھریلو کام کاج سکھایا جا رہا ہے تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کو کم کیا جا سکے۔

ایک مقامی ویب سائٹ فرغانہ ڈاٹ آر یو کے مطابق صوبہ صغد کےگورنر عبدالرحمان قدوری کے حکم پر خطے کے 912 میں سے 530 سیکینڈری سکولوں میں مٹی کے تندور لگائے جا چکے ہیں تاکہ یہاں طالبات کو نان روٹی بنانا سکھایا جا سکے۔

صوبے کے دیگر 840 سکولوں میں پہلے ہی قومی پکوان منتو اور پلاؤ بنانے کے لیے چولہے نصب ہیں۔

طلاق منائیں دھوم دھام سے

اس کے علاوہ ان سکولوں میں دیواروں پر آرائش کے لیے لگائی جانے والی اشیا اور قالین بننے کی مشینیں اور ماہرین بھی موجود ہیں۔

گورنر قدوری کے پریس سیکریٹری مظفر یونوسو نے ویب سائٹ کو بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد نئے خاندانوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانا ہے کیونکہ علاقے میں طلاق کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کو نہ تو بٹن ٹانکنا آتا ہے اور نہ ہی کھانا پکانا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں طلاق کی شرح میں قدرے اضافہ ہوا ہے جبکہ ویب سائٹ کے مطابق 2012 سے شادیوں کے اندراج میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

حکومتی اقدامات پر بعض مقامی اساتذہ اور ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑکیوں کو تربیت فراہم کرنا درست سمت میں قدم ہے لیکن ان اقدامات کا دائرہ کار بہت محدود کر دیا گیا ہے۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ طلاق کی وجہ دلہن ہی کو قرار دینا درست نہیں ہے۔

سینٹرل ہسپتال کینیبوڈم کی ڈاکٹر فروغت سوڈرڈنوا کے مطابق’تعلیم یافتہ نہ ہونا بھی مسئلہ ہے کیونکہ بعض معاملات میں لڑکی پڑھی لکھی ہوتی ہے اور لڑکا ناخواندہ اور اس وجہ سے خاندان الگ ہو جاتے ہیں۔‘

کھجند کے ہیڈماسٹر فیضلو فیضاویو نے اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کے اسباب میں اہم پہلو کھانا بنانا نہیں بلکہ رقم ہے۔

’اگر ہم طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں بہتر معاوضہ دینے والے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔‘

اسی بارے میں