شمالی کوریا میں دو امریکی سیاحوں کو مقدمات کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک امریکی کوریائی مذہبی مبلغ بھی شمالی کوریا میں 15 سال کی جیل کاٹ رہا ہے

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ گرفتار دو امریکی سیاحوں پر ملک کے ’خلاف اقدامات‘ کرنے کے الزام میں مقدمات چلائے گا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق امریکی سیاح ٹاڈ میلر اور جیفری فاول سے تفتیش کی جا رہی ہے اور انھیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں افراد کے خلاف شک کی بنیاد پر الزامات کی ثبوتوں اور ان کے اپنے بیانات سے تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم ان الزمات کے سلسلے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

اس کے علاوہ ایک امریکی کوریائی مذہبی مبلغ شمالی کوریا میں 15 سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔انھیں نومبر سنہ 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان پر شمالی کوریا کی حکومت کا تختہ الٹنے کا مجرم قرار دیا گیا۔

شمالی کوریا سے موصول ہونے والے خبروں کے مطابق امریکی سیاح جیفری فاول اپریل میں شمالی کوریا میں داخل ہوئے جنھیں جون کے اوائل میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ملک چھوڑ کر جا رہے تھے۔

جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نے خبر دی ہے کہ جیفری کو اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ انھوں نے ایک ہوٹل میں مذہبی کتاب بائبل کی کاپی چھوڑ دی تھی۔

خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق دوسرے امریکی سیاح ٹاڈ میلر کو 10 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبرساں ادارے کے مطابق انھوں نے سیاحت کا ویزا پھاڑتے ہوئے چلا کر کہا کہ ’میں عوامی جمہوریہ کوریا میں پناہ لینے کے لیے آئے ہیں۔‘

شمالی کوریا گرفتار امریکی شہریوں کو سفارتی بارگین میں آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

ماضی میں اہم امریکی شخصیات نے بشمول بل کلنٹن شمالی کوریا میں قید امریکی شہریوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے وہاں کا دورہ کیا۔

اسی بارے میں