برطانیہ: سیاہ فام بچے زیادہ فکرمند

تصویر کے کاپی رائٹ

برطانیہ میں تقریباً ہر پانچ سیاہ فام بچوں میں ایک کو خدشہ ہے کہ اس کی رنگت اس کے ملازمت ملنے کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام ’نیوز راؤنڈ‘ کی تحقیق کے مطابق سفید فارم بچوں میں سے دو فیصد جبکہ ایشیائی بچوں میں 13 فیصد کو اپنی رنگت کے حوالے سے خدشات کا سامنا ہے۔

اس جائزے میں آٹھ سے چودہ سال کی عمر کے کُل 1600 بچے شامل تھے جن میں 276 سیاہ فام، 640 سفید فام تھے جبکہ 711 کا تعلق برطانیہ میں رہنے والی دیگر اقلیتی نسلوں سے تھا۔

سروے پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن پارلیمان ڈیوڈ لیمی کا کہنا ہے کہ ملک میں مزید ایسے سیاہ فام افراد کی ضرورت ہے جنھیں دیکھ کر سیاہ فام بچوں میں آگے بڑھنے کا شوق پیدا ہو سکے۔

جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سفید فام بچوں میں سے تین چوتھائی کو یونیورسٹی جانے کا شوق ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ہر دس میں سے نو سیاہ فام بچے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم کے خواشمند ہیں۔

سروے کے دیگر نتائج کے مطابق:

  • 21 فیصد سیاہ فام بچے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی جلد کی رنگت ان کے اچھے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
  • 40 فیصد سیاہ فام بچوں کے خیال میں ان کے استاد انھیں ’تیز‘ کہیں گے، جبکہ سفید فام بچوں میں یہ تناسب 46 فیصد اور ایشیائی بچوں میں 39 فیصد ہے۔
  • 25 فیصد سفید فام، 30 فیصد سیاہ فام جبکہ 24 فیصد ایشیائی بچے بڑے ہو کر فٹبال کے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں۔
  • سیا فام بچوں میں سے 27 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ موسیقار یا ریپ سنگر بننا چاہتے ہیں جبکہ سفید فام بچوں میں یہ تناسب 21 فیصد ہے۔

لیبر کے رکن پارلیمان مسٹر لیمی گذشتہ حکومت میں وزیرِتعلیم بھی تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ داخلہ دیتے وقت بچوں کے پس منظر کا بھی خیال رکھیں۔

’یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر آپ سرکاری فلیٹوں میں 15ویں منزل پر رہتے ہیں، آپ کے بیڈ روم میں آپ کے سات بہن بھائی بھی سوتے ہیں، آپ کی ماں آپ کو اکیلی پال رہی ہے اور اس کے باوجود آپ ایک ’اے‘ اور دو ’بی‘ گریڈ حاصل کر لیتے ہیں تو آپ اتنے ہی ذہین ہیں جتنا کہ (لندن کے امیر علاقے) چیلسی میں رہنے والا وہ بچہ جسے چار سال کی عمر سے ٹیوشن بھی ملی، اچھے پریپریٹری سکول کی سہولت بھی ملی، پھر وہ ایک شاندار پرائیویٹ سکول میں گیا اور پھر اس نے تین ’اے‘ گریڈ لیے۔

آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’12 ایئرز آف سلیو‘ کے ہدائیتکار سٹیو میکون نے بی بی سی کے جائزے کے نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاہ فام بچوں کے حالات ’فکرمندی‘ کی بات ہیں۔

’جب میں سکول میں تھا تو تب بھی یہی سمجھا جاتا تھا کہ سیاہ فام بچے اتنے ذہین نہیں ہوتے کہ وہ زندگی میں بڑا کام کر سکیں۔ اس چکر کو ٹوٹنا چاہییے۔ مجھے یہ سوچ کر فکرمندی ہوتی ہے یہ سلسلہ ابھی تک ٹوٹا کیوں نہیں۔‘

اسی بارے میں