غزہ کی سرحد کے ساتھ اسرائیلی فوج تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ قدم کشیدگی بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا ہے

فلسطین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد پر اضافی فوج تعینات کر دی ہے۔

مغربی کنارے میں تین اسرائیلی نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد یروشلم میں ایک فلسطینی نوجوان لڑکے کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے کیے جانے والے فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹ حملوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ قدم کشیدگی بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو اسرائیل نے غزہ میں فضائی حملے کیے جس میں دس فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی حملوں سے پہلے گذشتہ رات غزہ سے مسلسل راکٹ حملوں میں جنوبی اسرائیلی شہر سدیروت میں دو مکان تباہ ہو گئے۔

اسرائیلی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح سے اسرائیلی فضائیہ غزہ میں دہشت گردی کے 15 ٹھکانوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ ترجمان کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں ہتھیار بنانے کی جگہیں اور تربیتی مراکز شامل ہیں۔

Image caption بدھ کے روز 17 سالہ محمد ابو خضیر کے قتل کی فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ہی حکام نے مذمت کی تھی

اس دوران سابق یروشلم میں فلسطینیوں نے مسلسل دوسرے دن محمد ابو خضیر کے اغوا اور قتل کے خلاف مظاہرہ کیا۔ نقاب پوش فلسطینیوں نے اسرائیلی پولیس پر پتھر اور بم پھینکے اور سڑکوں پر جلتے ہوئے ٹائر پھینکے۔

ابو خضیر کا خاندان اس کی لاش ملنے کا انتظار کر رہا ہے تاکہ ان کی آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک لاش کی جانچ پوری نہیں ہوئی ہے۔

فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ خضیر کا قتل تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا بدلہ تھا۔ بدھ کے روز 17 سالہ محمد ابو خدیر کے قتل کی فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ہی حکام نے مذمت کی تھی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی، جبکہ حماس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

اسی بارے میں