آگے سمندر، پیچھے کھائی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج داعش دنیا کی سب سے زیادہ امیر اور تربیت یافتہ عسکری تحریک بن چکی ہے

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے سکیورٹی اہلکاروں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ شمالی ہمسایہ ملک عراق کے ساتھ اپنی ویران صحرائی سرحد پر چاق و چوبند کھڑے رہیں۔

سعودی عرب کے خدشات بلاوجہ نہیں کیونکہ دولت سے مالا مال اور بہترین اسلحے سے لیس داعش کی جہادی فوج مغربی عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد سعودی عرب کی چوکھٹ تک پہنچ چکی ہے۔

سعودی عرب اور عراق کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد کا نصف صوبہ انبار کے ساتھ لگتا ہے جو داعش (جس کا نیا نام دولتِ اسلامی ہے) کے مکمل قابو میں ہے اور اس تمام علاقے میں دولتِ اسلامی کے مسلح لوگ آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔

اگرچہ سعودی عرب ابھی تک دولت اسلامی کے جنگجوؤں کے براہ راست نشانے پر نہیں آیا، لیکن اب یہ کوئی زیادہ دُور کی بات نہیں رہی۔

جنگجوؤں کی گھر واپسی

دولت اسلامی کے ہراول دستوں میں شامل جنگجوؤں میں زیادہ تعداد سعودی شہریوں کی ہے جو آخر کار جب گھر لوٹیں گے تو جنگ کے تجربات کی وجہ سے وہ پہلے سے زیادہ سخت گیر ہو چکے ہوں گے۔

اسی ہفتے شاہ عبداللہ نے حکم دیا تھا کہ ’مملکت کو دہشت گردوں اور ایسے تمام دوسرے گروہوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں جو مملکت کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں تیل پیدا اور برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک کو داعش سے کیا خطرات ہو سکتے ہیں؟

جہاں تک زمینی حقائق اور وسائل کا تعلق ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سعودی عرب کی شمالی سرحد محفوظ ہے۔

سنہ 2006 سے سعودی عرب اس سرحد کو مضبوط تر بنانے کے لیے یہاں ریت سے بھری ہوئی رکاوٹیں کھڑی کر کے ان کے اوپر خاردار تاریں اور دیگر حفاظتی مواد نصب کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ میلوں طویل اس دیوار پر چوکیاں بھی بنائی جا چکی ہیں جہاں سکیورٹی اہلکار گشت کرتے رہتے ہیں اور یہ اہلکار قریبی فوجی چھاؤنیوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ کوئی بھی اس سرحدی دیوار کو عبور نہیں کر سکتا، لیکن سعودی عرب کی یہ سرحد عراق اور شام کی درمیانی سرحد کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے جسے داعش کے جنگجو گذشتہ ماہ بغیر کسی مشکل کے روند کر گزر گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دولس اسلامی کی خود ساختہ خلافت شمالی شام سے لے کر مشرقی عراق تک پھیلی ہوئی ہے

گذشتہ برس جب میرا ریاض میں وزارتِ داخلہ کے ہیڈ کوارٹرز میں جانا ہوا تو وزارت کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے مجھے شیشے کے ایک بڑے ڈبے میں پڑا ہوا ایک ماڈل دکھایا تھا جس میں سعودی عرب اور عراق کی درمیانی سرحد پر لگی ہوئی رکاوٹوں اور دیوار کو بھی دکھایا گیا تھا۔

میں نے ترجمان کو اِس سرحد پر موجود حفاظتی انتظامات کے حوالے سے مطمئن پایا۔ میرے خیال میں ترجمان سعودی عرب اور یمن کی درمیانی سرحد کے بارے میں زیادہ فکرمند تھے جہاں پر ان کے کئی سکیورٹی اہلکار منشیات اور اسلحے کے سمگلروں، غیر قانونی تارکین وطن اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو ملک میں داخل ہونے سے روکتے ہوئے زخمی یا ہلاک ہو چکے تھے۔

لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ القاعدہ کے جذبے سے سرشار جہادی جنگجو سعودی عرب کے شمال اور جنوب دونوں اطراف پر پہنچ چکے ہیں اور سعودی عرب کو لگتا ہے کہ وہ دو خطرناک مقامات کے درمیان سینڈوچ بن گیا ہے۔

سنہ 2000 کی واپسی

سعودی حکام پریشان ہیں کہ آج کل حالات اور ایک دہائی پہلے کے حالات میں بہت مماثلت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اُس وقت امریکی فوجوں کے عراق میں داخل ہونے اور پھر عراق کی مرکزی حکومت کی توڑ پھوڑ کے بعد سعودی نوجوان اپنی مذہبی ذمہ داری کی ادائیگی کی سوچ لے کر گروہ در گروہ عراق جا رہے تھے تاکہ وہ امریکی فوجوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیں سکیں۔

آج بھی سعودی حکومت اور اس کے مفتیوں کے فتووں کے باوجود کئی ایک سعودی نوجوان داعش کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے شام اور عراق میں داخل ہو چکے ہیں۔ کچھ ایسی ویڈیوز منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں داعش کی قید میں عراقیوں کو بےرحمی سے قتل کرتے دکھایا گیا اور پس منظر میں آپ کو کچھ لوگ سعودی لہجے میں عربی بولتے سنائی دیتے ہیں۔

سعودی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ نوجوان جب بھی واپس گھر آتے ہیں، ملک کے لیے ایک خطرہ بن سکتے ہیں۔

اور اگر یہ لوگ دولت اسلامی کے زیر اثر علاقوں سے واپس نہیں آتے اور یمن جا کر القاعدہ کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں بھی یہ جہادی نوجوان سعودی عرب کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

سعودی حکام کو خدشہ ہے کہ داعش کا اگلا ہدف اُن کا ملک ہوگا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی داعش کی کامیابی کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے؟

ایرن اور عراق کے حکومتی حلقے تو اس بارے میں یک زبان ہیں اور ان دونوں کا کہنا یہی ہے کہ ’جو بوؤ گے، سو کاٹو گے۔‘ اسی ہفتے ایران کے رکنِ پارلیمان محمد اصفری کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مدد کرتا رہا ہے اور آخر کار یہ لوگ سعودی عرب ہی کے گلے پڑیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’داعش کی روحانی، مادی اور نظریاتی حمایت کا ماخذ سعودی عرب ہی ہے اور سعودی بادشاہ نے ملک کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کو داعش کی مدد کا خصوصی مشن سونپا تھا۔‘

’بالکل جھوٹ‘

سعودی عرب کہتا ہے کہ یہ الزام بالکل غلط ہے، بلکہ سعودی عرب اس کا ذمہ دار عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی کو قرار دیتا ہے کہ انھوں نے عراق کی سنی آبادی کو کنارے لگا کر نادانستہ طور پر داعش کو موقع فراہم کیا کہ وہ ملک کے سنی علاقوں پر قبضہ کر لے۔

تاہم سعودی عرب اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے خفیہ ایجنسی کے سربراہ پرنس بندر بن سلطان الاسد نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے سنی باغیوں کی ایک موثر فوج بنانے پر بہت بڑی رقم اور وقت صرف کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سعودی عرب اور عراق کی درمیانی سرحد پر لگی ہوئی رکاوٹیں اور خار دار تاریں لگی ہوئی ہیں

لگتا ہے کہ پرنس بندر کا منصوبہ ہر لحاظ سے ناکام رہا۔

شام کے وہ تمام علاقے جن کی کوئی حیثیت ہے، ان سب پر بشارالاسد کا مکمل کنٹرول ہے اور سعودی عرب اس بات کو بھی یقینی نہیں بنا سکا ہے کہ شام میں لڑنے والے سنی باغیوں کو دیا جانے والا اسلحہ داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھ نہ لگے۔

اگر سعودی عرب نہیں تو پھر داعش کو پیسہ کہاں سے ملتا رہا ہے؟

سعودی حکومت کہتی ہے کہ اس نے داعش کو پیسہ نہیں دیا، لیکن عام تاثر یہی ہے کہ سعودی عرب کے کئی امیر لوگ ذاتی حیثیت میں مختلف راستوں سے داعش کو بھاری رقوم کے عطیات بھجواتے رہے ہیں۔

کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ داعش کا اگلا نشانہ وہ ہوگا

اس لیے کہ سلفی سنی ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کے ان امیر لوگوں کو یہ بات بالکل پسند نہیں کہ ایران اور اس کے شیعہ اتحادی علاقے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھاتے ہیں۔

کئی دہائیوں تک عراق پر صدام حسین کی سنی حکومت کا ظالمانہ دور رہا۔ تاہم سنہ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج کے عراق میں آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا جس کے نتیجے میں بغداد میں ایک شیعہ اکثریتی حکومت برسر اقتدار آ گئی جس کی ہمدردیاں سعودی عرب کے دیرینہ دشمن ایران کے ساتھ ہیں۔

اس لیے کچھ سعودی لوگوں کے خیال میں داعش خون کے پیاسے دہشت گردوں کا ٹولہ نہیں ، بلکہ وہ اسے نظم و نسق کی پابند ایک ایسی طاقت سمجھتے ہیں جو کہ خطے کے سنیوں کے حقوق کی محافظ ہے اور ایران اور اس کے ’بدعتی‘ شیعوں کے خلاف دیوار کا کام دے گی۔

لیکن امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ مفصل تحقیق میں یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ داعش کو ملنے والی رقوم میں سے صرف پانچ فیصد بیرون ملک سے عطیات پر مبنی تھیں۔ بلکہ تحقیق کے مطابق داعش کو دستیاب رقوم کا بڑا حصہ مقامی طور پر بھتے، اغوا برائے تاوان اور ان غیر سرکاری ’ٹیکسوں‘ سے جمع کیا گیا تھا جو اس تنظیم نے اپنے زیرِ اثر شامی اور عراقی علاقوں میں عائد کیے ہوئے ہیں۔

جون میں موصل کا ایک بینک لُوٹنے کے بعد داعش کے اثاثوں میں 40 کروڑ ڈالر کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج داعش دنیا کی سب سے زیادہ امیر اور تربیت یافتہ عسکری تحریک بن چکی ہے۔

خطے کے ممالک کی یہ پریشانی بے وجہ نہیں کہ داعش کا اگلا نشانہ کون ہوگا۔

اسی بارے میں