نوجوان کے جنازے میں ہزاروں شریک

تصویر کے کاپی رائٹ non
Image caption ماہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز کے بعد ہزاروں افراد نے جلوس میں حصہ لیا

مشرقی یروشلم میں سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود ہزاروں لوگوں نے قتل کیے جانے والے نوجوان کے جنازے کے جلوس میں شرکت کی ہے۔

یاد رہے کہ محمد ابوخضیر کی میت اسرائیلی پولیس نے اپنی تحویل میں رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سےجمعرات کو اس کا جنازہ موخر کر دیا گیا تھا۔

محمد ابوخضیر کے خاندان کا کہنا ہے کہ اسے تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کے بدلے میں مارا گیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی معلوم نہیں ہو پایا کہ اس قتل کا محرک کیا تھا۔

اسرائیلی پولیس نے محمد ابوخضیر کی میت جمعے کو اس کے خاندان کے حوالے کی۔ اطلاعات کے مطابق نوجوان کی میت بری طرح جھلسی ہوئی تھی جس سے اس کی شناخت میں تاخیر ہوئی۔ اسلامی روایت کے مطابق نوجوان کے خاندان کی خواہش تھی کہ اس کے جنازے میں تاخیر نہ ہو۔

ماہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز کے بعد ہزاروں افراد نے جلوس میں حصہ لیا اور نوجوان کی فلسطینی پرچم میں لپٹی ہوئی میت کو مشرقی یروشلم کی گلیوں سے اس کے آبائی محلے تک پہنچایا گیا۔

فلسطینی نوجوان کی آخری رسومات اس کے خاندان کے آبائی محلے شعافت میں ادا کی جائیں گی۔

جمعے کو یروشلم کے دو دوسرے علاقوں میں فلسطینی نوجوان کے قتل کے خلاف مظاہروں کے دوران سینکڑوں فلسطینی نوجوانوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا ہے۔

جمعے کی صبح حماس نے اسرائیل کو پیشکش کی ہے کہ اگر اسرائیلی فوج فلسطینی علاقوں پر فضائی حملے بند کر دے تو وہ شمالی اسرائیل میں راکٹ حملے نہیں کریں گے۔

بدھ کو محمد ابوخضیر کے قتل کے بعد سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس نوجوان کو تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کے بدلے میں مارا گیا ہے۔

اسرائیل نے عسکریت پسندوں کی جانب سے مارٹر حملوں کے جواب میں جمعرات کی صبح غزہ پر کئی فضائی حملے کیے تھے۔

بدھ کے روز 17 سالہ محمد ابوخضیر کے قتل کی فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ہی حکام نے مذمت کی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا تھا کہ یہ قتل اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا بدلہ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی جبکہ حماس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

غرب اردن میں واقع اسرائیلی بستی کے قریب سے جون کے اوائل میں تین لاپتہ ہونے والے اسرائیلی نوجوانوں کی پیر کو ہیبرون کے قریب ہان حل سے لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

16 سالہ نافتالی فرینکل اور جیلاد شار اور 19 سالہ نوجوان آئل افراق کو آخری بار یروشلم اور ہیبرون کے درمیان واقع یہودی بستیوں کے ایک بلاک میں دیکھا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اس واقعے کے لیے حماس کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن حماس نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں