آپ سب کو یوم آزادی بہت بہت مبارک ہو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ۔۔۔امریکہ میں یوم آزادی کی تقریبات جاری ہیں

آپ سب کو یوم آزادی بہت بہت مبارک ہو۔

جی ہاں میں پورے ہوش و حواس میں یہ مبارکباد دے رہا ہوں۔ چار جولائی ہے، یوم آزادی ہے۔ آپ یہ دن کیسے بھول گئے؟

ہوم لینڈ بالکل دلھن کی طرح سجی ہوئی ہے۔ چین میں بنے امریکی پرچم اینٹھ اینٹھ کر لہرا رہے ہیں۔

چین سے ہی آئے پٹاخے امریکی آسمان کو چمکا رہے ہیں۔ پارٹیاں ہو رہی ہیں، شراب بہہ رہی ہے، سکول اور دفتر بند ہیں۔ اور کیا ثبوت چاہیے آپ کو کہ چار جولائی کو یوم آزادی ہے؟

اچھا، اب میں سمجھا کہ آپ کو یہ کیوں لگ رہا ہے کہ میں بہک گیا ہوں۔ دراصل یہ آپ کا نہیں آپ کی سوچ کا قصور ہے کیونکہ وہ بہت چھوٹی ہے۔

ارے بھائی آپ دنیا کے شہری ہیں اور دنیا کی آزادی کی ذمہ داری امریکہ کے سر ہی تو ہے تو پھر امریکہ کی آزادی آپ کی آزادی ہوئی یا نہیں؟

اب بھی آپ کو لگ رہا ہے نہ کہ میرے کان کے پاس کوئی چینی پٹاخہ پھٹ گیا ہے اور میرا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔

چلیے تھوڑی دیر کے لیے مان لیں کہ پوری دنیا ایک ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت کیا ہوگا؟ ظاہر ہے امریکہ۔ صدارتی محل کہاں بنے گا؟ ظاہر ہے واشنگٹن میں۔

لگتا ہے آپ تو برا مان گئے؟ آپ کہہ رہے ہوں گے واشنگٹن میں ہی کیوں؟ دہلی، اسلام آباد بیجنگ یا ماسکو میں کیوں نہیں۔

بہت خوب۔ کوئی چھوٹی یا بڑی مشکل آپ کے سامنے آ جائے تو اپنے لیڈروں کو سیدھا واشنگٹن بھیجتے ہیں۔ جھگڑا آپ کی گلی میں ہو رہا ہو، آپ انکل سام سے پوچھتے ہیں کہ حل کرنے کے لیے کب آ رہے ہو۔ انھوں نے ٹال مٹول سے کام لیا تو غصہ، دیر کی تو غصہ، آ کر کچھ زیادہ دن ٹھہر گئے تو غصہ، کچھ کہہ دیا تو غصہ۔

دنیا میں ہونے والی کسی بھی بات پر غصہ آیا تو بس چلو امریکی پرچم جلاتے ہیں۔ حد ہوتی ہے کسی چیز کی بھی۔

بیچارے انکل سام کو دیکھ کر مجھے بالی وڈ فلموں کے ایک کردار شامو کاکا یاد آ جاتے ہیں۔ (ویسے بھی انکل سام کا ترجمہ تو شامو کاکا ہی ہوگا۔)

شامو کاکا پانی گرم نہیں ہوا، شامو کاکا سبزی میں نمک زیادہ ہے، شامو کاکا آپ کو دکھائی نہیں دیتا، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

اب بڑی مشکل سے شامو کاکا افغانستان سے کام نمٹا کر واپس آ رہے تھے، بچا کھچا کام سمیٹ رہے تھے۔ سوچ رہے تھے تھوڑا سستائیں گے، بیڑی سلگائیں گے لیکن کہاں؟ گھر پہنچے بھی نہیں تھے کہ عراق سے بلاوا آ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چین سے درآمد کردہ پٹاخے امریکی آسمانوں کو جگمگا رہے ہیں

پاکستان میں بجلی نہیں آ رہی امریکہ کو بلاؤ، یوکرین کو پڑوس کا غنڈہ آنکھیں دکھا رہا ہے تو امریکہ کو بلاؤ، نائجیریا میں بوکو حرام لڑکیوں کو اٹھا لے گیا ہے تو امریکہ کو بلاؤ، چین بحیرۂ جنوبی چین میں فساد مچا رہا ہے تو امریکہ کو بلاؤ، شام کو آزاد کروانا ہے امریکہ کو بلاؤ۔

اور امریکہ بھی تن من سے اپنی جیب سے خرچ کر کے آپ کی خدمت میں لگا رہتا ہے۔ آپ کے فون سنتا ہے، آپ کے خطوط پڑھتا ہے، آپ کے لیے ہتھیار بناتا ہے، آپ کے نالائق بچوں کو آنکھیں دکھاتا ہے، قابل بچوں کو اپنی بڑی بڑی يونیورسٹيوں میں تعلیم دیتا ہے، مہنگی مہنگی ادویات بناتا ہے اور آپ ہیں کہ صرف بیٹھ کر اسےگالیاں دیتے ہیں۔

تھوڑا اپنا دل بڑا کریں، صدر بازار جائیں۔ وہاں ضرور امریکی پرچم مل جائیں گے، لہرانے کے لیے نہیں تو جلانے کے لیے وہ ضرور انھیں فروخت کرتے ہوں گے۔

پرچم لہراتے ہوئے بیوی بچوں سمیت آزادی کا جشن منائیں، میكڈونلڈ کے برگر کھائیں، سٹاربكس بھی آپ کے محلے تک پہنچ ہی گیا ہوگا تو کولڈ کافی پیئیں اور پیسے اگر بچ گئے ہوں تو ہالی وڈ کی فلم دیکھیں۔

ہاں یہاں آنے کی زحمت نہیں اٹھائیں۔ آج کل آپ کے ہوائی اڈوں پر سكیورٹي کچھ زیادہ سخت کر دی گئی ہے کیونکہ سنا ہے کچھ سر پھرے پھر سے ہوم لینڈ کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ہیپّی فورتھ آف جولائی!

اسی بارے میں