’ابوخضیر کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فلسطینی نوجوان محمد ابوخضیر کو ’زندہ جلانے‘ کے واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ بات بدھ کو یروشلم میں پولیس کی جانب سے نوجوان محمد ابوخضیر کو ’زندہ جلانے‘ کے کیس میں چھ مشتبہ یہودیوں کو حراست میں لینے کے بعد کہی۔

فلسطینی نوجوان کو’زندہ جلانے‘پر متعدد یہودی گرفتار

بنیامن نیتن یاہو نے ٹی وی کو دیے جانے والے ایک بیان میں کہا ’ہم خطے کو جلانے اور خونریزی کے لیے انتہا پسندی کی اجازت نہیں دیں گے۔ چاہے وہ کسی بھی جانب سے ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ قتل قتل ہے اور اشتعال پسندی اشعال پسندی ہے، ہم دونوں کو پوری طاقت سے کچل دیں گے۔

اسرائیل کی وزیرِ انصاف زیپی لیونی نے کہا کہ ان کا محکمۂ گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر عرب مخالف اشتعال پھیلانے کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

انھوں نے چینل 2 ٹی وی کو بتایا کہ ’ان چیزوں کو چھوٹے سطح پر ختم کرنا چاہیے۔ اور اس موقعے پر ہر کسی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگ پر قابو پائے۔‘

اسرائیلی کابینہ کے وزیر جیکب پیری نے جو اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی شین بیٹ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، کہا کہ انھوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے شمالی اسرائیل میں عرب رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی صدر شمون پیرس بھی عرب رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ادھر پولیس کو یقین ہے کہ ابوخضیر کو ان کی شہریت کی وجہ سے مارا گیا۔ابوخضیر کی موت تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور ہلاکت کے بعد ہوئی۔

دریں اثنا اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے اتوار کی شب غزہ کی پٹی پر ڈرون حملہ کیا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔اس ڈرون حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر دو فضائی حملے کیے جس میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قتل قتل ہے اور اشتعال پسندی اشعال پسندی ہے، ہم دونوں کو پوری طاقت سے کچل دیں گے: نیتن یاہو

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والے تمام چھ افراد کا تعلق شدت پسند تنظیم حماس سے ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 کے بعد اسرائیل کی جانب سے اسلامی گروپ حماس کے خلاف یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان چار اسرائیلی نوجوانوں کی ہلاکت کے بعدصورتِ حال کشیدہ ہے اور فریقین میں ایک دوسرے کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

محمد ابوخضیر کی جمعے کو تدفین سے پہلے اور بعد میں مشرقی یروشلم میں سینکڑوں فلسطینی نوجوانوں کا اسرائیلی پولیس کے ساتھ تصادم ہوا جس میں پولیس نے اشکبار گولوں کا استعمال کیا اور 20 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔

اس سے پہلے فلسطین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد پر اضافی فوج تعینات کر دی تھی۔

حال ہی میں تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی جبکہ حماس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

اسی بارے میں