امریکی جاسوسی کا شکار ہونے والوں میں عام شہری زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ seience photo liberary
Image caption این ایس اے کی نگرانی کا شکار عام لوگ بنے

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چار مہینے کی تحقیق کے بعد اخبار کو علم ہوا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی (این ایس اے) کی جانب سے جن لوگوں کے انٹرنیٹ اکاونٹس کی نگرانی کی جاتی رہی ان میں عام امریکی شہریوں کی تعداد ان لوگوں کےمقابلے میں کہیں زیادہ تھی جن کے اکاونٹس پر قانونی طور پر نظر رکھے جانا مقصود تھا۔

قومی سلامتی کے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے واشنگٹن پوسٹ کو فراہم کیے جانے والے مواد سے پتا چلا کہ دس میں سے نو آدمی ایسے تھے جو اس جال میں آ گئے جو قومی سلامتی کی ایجنسی نے کسی دوسرے کو پکڑنے کے لیے لگایا تھا۔

ان میں زیادہ تر لوگ امریکی شہری تھے۔ قومی سلامتی کی ایجنسی (این ایس اے) کی زیر نگرانی فائلوں میں تقریباً نصف میں ایسے لوگوں کے نام ، ای میل پتے اور دیگر معلومات شامل تھیں جو امریکی شہری یا امریکہ میں مقیم تھے۔

این ایس اے کے تجزیہ کاروں نے امریکی شہریوں کی نجی زندگی کو پوشیدہ رکھنے کی خاطر 65 ہزار ایسے حوالہ جات چھپائے یا مخفی رکھے لیکن واشنگٹن پوسٹ کو نو سو اضافی ایسے ای میل پتے ملے جو امریکی شہریوں یا امریکہ میں مقیم لوگوں کے تھے۔

زیر نگرانی فائلوں میں ایک ایسے مسئلے کو آشکار کیا ہے جس کا اظہار عام طور پر ڈھکے چھپے الفاظ میں کیا جاتا رہا ہے۔ این ایس اے کی طرف سے پکڑے جانے والے پیغاموں سے قابل قدر خفیہ معلومات حاصل ہوئی ہیں لیکن اس سے امریکی شہریوں کی نجی زندگیوں میں جس قدر مداخلت ہوئی یا پراؤیسی متاثر ہوئی اس کا ازالہ براک اوباما کی انتظامیہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption واشنگٹن پوسٹ نے چار ماہ تک یہ تحقیق کی

واشنگٹن پوسٹ کو حاصل ہونے والے مواد میں کچھ انتہائی اہم مواد بھی ہے جس کی تفصیل با وجوہ اخبار نے فراہم نہیں کی۔ اس میں بیرون ملک ایک خفیہ جوہری پلانٹ، بظاہر ایک اتحادی ملک کے دوغلے پن، ایک حریف ملک میں فوجی تباہی و بربادی اور امریکہ کے کمپوٹر نظام میں جارح مداخلت کاروں کی شناخت کے بارے میں تازہ معلومات بھی شامل ہے۔

کئی ماہ تک پچاس کے قریب فرضی یا دوسرے ناموں سے بنائے گئے اکاونٹس پر پیغامات کے تبادلے کی نگرانی کے بعد سنہ دو ہزار گیارہ میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں بم بنانے والے محمد طاہر شہزاد کی گرفتاری ممکن ہوئی اور انڈونیشیا کے شہر بالی میں سنہ دو ہزار دو کے بم حملے میں ملوث عمر پاٹیک کا پتہ چلا۔

سی آئی اے کی درخواست پر واشنگٹن پوسٹ بعض دوسری معلومات افشا نہیں کر رہا کیونکہ اس سے جاری تحقیقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بے شمار دوسری فائلیں جن کو تجزیہ کار بے کار قرار دے چکے ہیں لیکن انھیں پھر بھی محفوظ رکھا گیا ہے اور ان میں لوگوں کی انتہائی ذاتی معلومات درج ہیں۔ دس ہزار کے قریب اکاونٹ ہولڈرز جو اس نگرانی کی زد میں آئے ان کی نجی زندگی کی تفصیلات ریکارڈ رکھی گئی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے 160000 ای میل اور فوری پیغامات کا جائزہ لیا اور ان میں سے بعض پیغامات کئی سو صفحات پر محیط تھے اس کے علاوہ 79000 دستاویزات دیکھی گئیں جو 11000 آن لائن کھاتوں سے حاصل کی گئی تھیں۔

پرزم کے نام سے شروع کیے جانے والے ایک خفیہ پروگرام میں یاہو، مائیکروسافٹ، فیس بک، گوگل اور پانچ دیگر بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں پر پیغامات کے تبادلوں سے معلومات حاصل کی گئیں۔ این ایس اے کے ایک اور پروگرام جس کا خفیہ نام ’اپ سٹریم‘ تھا اس میں متحرک ڈیٹا یا مواد کو پکڑا جاتا ہے جو امریکہ کے گوبل وائس اور ڈیٹا نیٹ ورک سے ہو کر گزرتا ہے۔

اسی بارے میں