’اسرائیل میں زیرِ حراست امریکی نوجوان پر تشدد پر تشویش ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ نے اپنے شہری طارق کی پٹائی کی خبروں پر اسرائیل سے وضاحت طلب کی ہے

امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے مشرقی یروشلم میں اسرائیلی پولیس کی حراست میں ایک امریکی نوجوان کے پیٹے جانے کی خبر پر ’بے حد پریشان‘ ہوئی ہے۔

فلوریڈا کا 15 سالہ لڑکا طارق خضیر فلسطین کے 16 سالہ لڑکے محمد ابو خضیر کا چچازاد بھائی ہے جسے اغوا کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد اس علاقے میں فرقہ وارانہ تشد پھوٹ پڑے تھے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہےکہ یہ نوجوان طارق اُن لوگوں میں شامل تھا جو اسرائیلی حکام پر دھاوا بول رہے تھے۔

تاہم طارق کے اہل خانہ نے اس طرح کے کسی واقعات میں اس کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔

ابوخضیر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مشرقی یروشلم اور متعدد عرب اسرائیلی شہروں میں بدامنی پھیل گئی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ محمد ابو خضیر کو زندہ جلایا گيا ہے۔

جمعرات کو فلسطینی مظاہرے کے دوران جو موبائل فوٹیج لی گئی تھی اس میں بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ دو اسرائیلی سرحدی پولیس نے طارق خضیر کو ایک خرابے میں پکڑ رکھا ہے۔

فوٹیج میں یہ نظر آ رہا ہے کہ ایک پولیس اہلکار نے پہلے اس لڑکے کے سر پر گھونسا مارا پھر اسے پکڑ کر لے گئے۔ بعد کی تصویر میں اس کے چہرے کو انتہائی سوجا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طارق کی والدہ اپنے بچے کی تصویر دکھاتی ہوئی یہاں دیکھی جا سکتی ہیں

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین پساکی نے کہا کہ طارق ابھی بھی حراست میں ہیں لیکن ایک سفارتکار نے سنیچر کو ان سے ملاقات کی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں پولیس حراست میں اس کی مار پیٹ کی خبر سے شدید تکلیف پہنچی ہے اور ہم زیادہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔

’ہم نے تیز، شفاف اور قابل یقین جانچ کی مانگ کی ہے اور کسی قسم کے بےجا قوت کے استعمال کی پوری ذمہ داری کی بات کہی ہے۔‘

مشرقی یروشلم کے شوفت ضلعے میں جمعے کو محمد ابوخضیر کا جنازہ پڑھاگیا۔

اس کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اسے یہودی شدت پسندوں نے تین یہودی لڑکوں کے قتل کے بدلے میں مارا ہے۔

بہر حال ایک ہفتے کے دوران ان چار نوجوانوں کی ہلاکتوں سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سولہ سالہ فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کو زندہ جلانے کے واقعے کے بعد عرب اسرائیلی علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے

یاد رہے کہ حال ہی میں تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی جبکہ حماس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

اسی بارے میں