’امریکہ ملوث ہے تو یہ اعتماد کی واضح خلاف ورزی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمنی امریکہ پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کی وضاحت کرے

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ جرمن انٹیلی جنس کے ایک اہلکار نے امریکہ کے لیے جاسوسی کی تو یہ دونوں اتحادیوں کے درمیان اعتماد کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہوگی۔

چین میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک 31 سالہ نوجوان کی اس سلسلے میں گرفتاری کے بارے میں پہلی مرتبہ منظرِ عام پر بیان دیا ہے۔

جرمنی میں استعاثہ کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص نے مبینہ طور پر 2012 سے 2014 کے درمیان 218 دستاویزات غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کو فراہم کیں۔ جرمن میڈیا بغیر کسی ذرائع کے یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ شخص جرمنی کی انٹیلی جنس سروس کا ملازم ہے۔

انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو میرے لیے یہ پُراعتماد تعاون کی واضح خلاف ورزی ہوگی۔‘

جرمنی امریکہ پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں۔ یہ معاملہ امریکہ اور جرمنی کے تعلقات پر ایک مرتبہ پھر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ اس سے قبل حال ہی میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکہ حکام نے جرمنی کی چانسلر کی جاسوسی کی تھی۔

جرمن اخبار بلد نے پیر کو شائع کیا کہ وزیرِ داخلہ توماس دے میزیئر چاہتے ہیں کہ اس واقعے کے ردِ عمل میں امریکہ کو مستقبل میں جاسوسی کے اہداف میں شامل کیا جائے۔

جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکہ مداخلت ثابت ہوئی تو دونوں ممالک کے روزمرہ تعلقات پر غیر معینہ اثر پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو یہ ایک سیاسی معاملہ بن جائے گا اور ایسے میں آپ پرانے تعلقات کی طرف واپس نہیں جا سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم تمام معلومات جمع کر کے فیصلہ کریں گے کہ کیا ردِ عمل ظاہر کرنا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ امریکہ اس معاملہ کے جلد حل کے لیے تعاون کرے گا۔‘

یاد رہے کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ امریکہ کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرے گا کہ وہ کبھی اس کی جاسوسی نہ کر سکے۔

اسی بارے میں