ایڈورڈ شیورڈناڈزے انتقال کر گئے

Image caption شیورڈناڈزے سنہ 1928 میں جارجیا میں پیدا ہوئے تھے

سوویت یونین کے سابق وزیر خارجہ اور جارجیا کے سابق صدر ایڈورڈ شیورڈناڈزے انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر 86 برس تھی اور وہ ایک عرصے سے علیل تھے۔

شیورڈناڈزے سنہ 1928 میں جارجیا میں پیدا ہوئے اور انھوں نے سنہ 1946 میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی نوجوانوں کی تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انھیں سنہ 1972 میں جارجیا میں کمیونسٹ پارٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔

عالمی سطح پر ان کی سب سے بڑی شناخت اس وقت ہوئی جب انھوں نے سنہ 1985 میں میخائیل گورباچوف کی حکومت میں سوویت یونین کے وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالا۔

انھوں نے سنہ 1990 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن جب سنہ 1991 میں سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا تو وہ دوبارہ کچھ عرصے کے لیے وزیرِخارجہ بنے تھے۔

جارجیا آنے کے بعد انھیں جارجیا میں خانہ جنگی پر قابو پانے میں کامیابی ہوئی، تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ملک میں پھیلی ہوئی بدعنوانی پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے۔

ایڈورڈ شیورڈناڈزے سنہ 1992 میں جارجیا کے آزاد ہونے کے بعد سربراہِ مملکت بنے تھے لیکن وہ حزب مخالف کی ’گلاب انقلاب‘ نامی احتجاجی تحریک پر قابو پانے میں ناکام رہے اور پھر سنہ 2003 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

مبصرین کے مطابق جب میخائیل گورباچوف نے شیورڈناڈزے کو وزیر خارجہ بنایا تو اس وقت شیورڈناڈزے کے پاس کوئی خاص تجربہ نہیں تھا اور سوویت یونین بڑی تبدیلیوں کے دور سے گذر رہا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب میخائیل گورباچوف ’گلاسناسٹ‘ اور ’پیرسٹرائیکا‘ کے تحت سوویت یونین میں معاشی اور معاشرتی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ناتجربہ کاری کے باوجود شیورڈناڈزے وزیرِ خارجہ کے طور پر تخفیفِ اسلحہ کے کئی ایک بین الاقوامی معاہدوں پر معنی خیز مذاکرات کرنے میں کامیاب رہے۔ ان معاہدوں میں درمیانے درجے کے جوہری ہتھیاروں کا ’انٹرمیڈیٹ نیوکلیئر فورسز‘ معاہدہ بھی شامل ہے جس کے تحت جوہری ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ کو ختم کیا گیا۔

اس کے علاوہ شیورڈناڈزے نے نا صرف افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے معاملے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ مشرقی یورپ کی ریاستوں میں سوویت یونین کی فوجوں کی موجودگی کو ختم کر کے ان ممالک کے آزاد ہونے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

سنہ 2010 میں ایک انٹرویو میں گئے دنوں کے بارے میں شیورڈناڈزے نے کہا تھا: ’ ہم نے ان دنوں میں واقعی دنیا بدل تھی۔۔۔۔ اور اس کا اصل سہرا گورباچوف کے سر جاتا ہے۔‘

اپنے دیرنہ ساتھی کے انتقال پر روس کے ایک ریڈیو سٹیشن سے بات کرتے ہوئے میخائیل گورباچوف کا کہنا تھا کہ مسٹر شیورڈناڈزے ’نہایت اہل اور باصلاحیت شحض تھے اور وہ معاشرے کے تمام طبقات اور عام لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا بہت شوق رکھتے تھے۔‘

اسی بارے میں