لندن میں’باپو‘ کا مجسمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مہاتما گاندھی کا مجسمہ پارلیمنٹ سکوائر میں لگایا جائے گا

بھارت کے قومی ہیرو مہاتما گاندھی کا مجسمہ لندن میں برطانوی پارلیمان کے سامنے نصب کیا جائے گا۔

مہاتما گاندھی کا یہ مجسمہ پارلیمان سکوائر میں امریکی صدر ابراہم لنکن اور جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن مینڈیلا کے مجسموں کے ساتھ لگایا جائے گا۔

دہلی میں گاندھی کی یاد گار کے دورے پر برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ یہ عظیم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہتریں طریقہ ہے۔

مہاتما گاندھی کو جنوری 1948 میں بھارت کے آزادی حاصل کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

گاندھی جنھیں بھارت میں عزت سے ’باپو‘ بھی کہا جاتا ہے ان کا مجسمہ بنانے کے لیے معروف مجسمہ ساز فل جیکسن سے رابط کیا گیا ہے وہ مادر ملکہ اور شاہی فضائیہ کی بمبار کمان کے مجسمے بھی بنا چکے ہیں۔

توقع ہے کہ یہ مجسمہ اگلے سال کے شروع میں مکمل کر لیا جائے گا اور 2018 میں گاندھی کی 70 سالہ تقریبات میں توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ گاندھی کی شخصیت لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ گاندھی کی عدم تشدد کا فلسفہ، مذہبی ہم آہنگی کا نظریہ اور ہندوستان کی ترقی کا خیال آج بھی اتنا ہی اہم اور ضروری ہے جتنا ان کے دور میں تھا۔

برطانیہ کے ثقافت کے وزیر ساجد جاوید جن کے والدین بھارت میں پیدا ہوئے تھے ان کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ گاندھی کی عظمت کا نشان ہوگا۔

لندن کے پارلیمنٹ سکوائر میں لگایا جانے والا یہ 11واں مجسمہ ہو گا۔

اسی بارے میں