جاپان:سمندری طوفان اوکی ناوا سے ٹکرا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ جاپان میں آنے والا اب تک کا شدید ترین سمندری طوفان ہو سکتا ہے

جاپان میں ایک طاقتور طوفان کی آمد پر جزائرِ اوکی ناوا پر آباد لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔

سمندری طوفان ناگوری منگل کو اوکی ناوا کے جنوبی جزائر سے گزر رہا ہے اور اس دوران علاقے میں تیز ہوائیں چلی ہیں اور موسلا دھار بارش ہوئی ہے۔

طوفان کی وجہ سے علاقے میں پروازیں معطل کر دی گئی ہیں اور سکول بند ہیں۔ مقامی ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے مناظر میں کئی درخت اُکھڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

جاپانی محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کے دوران ہوا کی رفتار 252 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اور سمندر میں 14 میٹر تک بلند لہریں اٹھیں گی۔

اوکی ناوا میں پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک طوفان کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات میں 83 سالہ خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک 62 سالہ مچھیرا لاپتہ ہے۔

محکمۂ موسمیات کے ترجمان ساتوشی ایبیہارا نے پیر کی رات ایک نیوز کانفرنس میں بتایا: ’خدشہ ہے کہ غیر معمولی حد تک تیز ہوائیں چلیں گی اور بارش ہوگی۔ مہربانی کر کے غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔‘

مقامی انتظامیہ نے اوکی ناوا کے چار لاکھ 80 ہزار رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ یا تو گھروں کے اندر رہیں یا پناہ کے لیے کمیونٹی سینٹرز میں چلے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اوکی ناوا جاپان کا انتہائی جنوب کا علاقہ ہے اور یہ جزیروں پر مشتمل ہے

اس وقت علاقے کے 50 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم ہیں اور ایک تیل کے کارخانے نے کام بند کر دیا ہے۔

مقامی افراد خراب موسم کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ ایک مقامی خاتون کیتھرین سپور نے بی بی سی کو بتایا کہ جن لوگوں نے نقل مکانی کرنا تھی وہ کر چکے ہیں۔

’اس وقت یہاں بہت تیز ہوا چل رہی ہے اور بارش ہو رہی ہے۔ میرے علاقے میں 143 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور بارش ہو رہی ہے۔ یہ یقیناً خطرناک صورتحال ہے۔‘

اوکی ناوا جاپان کا انتہائی جنوب کا علاقہ ہے اور یہ جزیروں پر مشتمل ہے۔ یہاں امریکی فوج کے اڈے بھی ہیں۔ ایک طویل المدتی معاہدے کے تحت یہاں امریکہ کے 26 ہزار فوجی تعینات ہیں۔

افسران نے طوفان کی آمد سے قبل ایئر بیس سے جہازوں کو منتقل کر دیا ہے۔ لیفٹیننٹ ایرک انتھونی نے کانڈینا جزیرے سے ائیر بیس سے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہاں تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخوں اور کچرے کو سڑکوں پر یہاں وہاں اڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخوں اور کچرے کو سڑکوں پر یہاں وہاں اڑتے دیکھا جا سکتا ہے: لیفٹیننٹ ایرک انتھونی

’لیکن میں نے اب تک کوئی بڑا نقصان نہیں دیکھا ہے ابھی تک علاقے سے رابطہ قائم ہے۔‘

ٹوکیو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ۔ہیز کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹے میں طوفان کی شدت میں کچھ کمی ہوئی ہے اور اب یہ ’سپر ٹائیفون‘ نہیں رہا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب یہ طوفان مشرقی چینی سمندر سے گزرے گا اس کی شدت میں مزید کمی آئے گی تاہم اب بھی اس میں نمی بھرے بادلوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو طوفانی بارش اور اس کے نتیجے میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں