چین اور امریکہ کا ٹکراؤ تباہی ہوگا: چینی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیجنگ میں جاری امریکہ چین سالانہ مذاکرات میں چین صدر اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شرکت کی

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ ’تباہی‘ ہوگا۔ انھوں نے دونوں ممالک سے ایک دوسرے کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔

چینی صدر نے یہ باتیں چین امریکہ سالانہ مذاکرات کے موقعے پر بیجنگ میں کہیں۔

ان مذاکرات میں سفارت کار چینی کرنسی، شمالی کوریا اور بحیرۂ جنوبی چین کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

امریکی وفد کی قیادت امریکی وزیر خارجہ جان کیری کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ امریکہ چین کو ’خود تک محدود‘ نہیں کرنا چاہتا۔

صدر شی جن پنگ نے کہا کہ اب ’دونوں ممالک کے مفادات پہلے سے کہیں زیادہ آپس میں منسلک ہیں کیونکہ تعاون سے بہت زیادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کو برابر سمجھنا چاہیے، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور ترقی کے راستے پر ایک دوسرے کی پسند کا احترام کرنا چاہیے۔‘

دوسری جانب جان کیری نے کہا کہ ’امریکہ چین کو اپنی حد میں رکھنا نہیں چاہتا۔‘ انھوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ جب امریکہ چین سے کسی معاملے میں اختلاف رکھتا ہے تو چین کو ’امریکہ کی حکمت عملی کی اس طرح تعبیر نہیں کرنی چاہیے۔‘

Image caption امریکہ نے حال ہی میں فلپائن کے ساتھ مشترکہ فوجی مشق کی جس پر چین نے تشویش کا اظہار کیا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ’ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال چین کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس بات کی یقین دہانی کے بارے میں پابند ہیں کہ ہمارے مجموعی تعلقات کی بنیاد تعاون ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی امریکی رہنماؤں نے چین سے ایشیا میں استحکام قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار نبھانے کی بات بھی کہی ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب چین اپنے پڑوسیوں بطور خاص ویت نام اور فلپائن کے ساتھ بحیرۂ جنوبی چین کے دعووں پر سخت تنازعات کا شکار ہے۔

اس کے نتیجے میں امریکہ نے فلپائن کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکہ کے ان اقدام پر چین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ابھی حال میں دو ہفتے پہلے بحیرۂ جنوبی چین کے متنازع علاقے میں امریکہ نے فلپائن کے ساتھ ایک مشترکہ فوجی مشق کی ہے۔

دوسری طرف چین کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں جاپان کے خلاف بیان بازی میں اضافہ ہوا ہے، بطور خاص جاپان کی کابینہ کی جانب سے آئین کی از سر نو تشریح کے فیصلے کے بعد، جس کے تحت جاپان کی فوج کو بیرون ممالک لڑنے کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ چین اور جاپان بحیرۂ جنوبی چین میں بعض جزیروں پر ایک ساتھ دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے تعلقات اس کی وجہ سے بہت کشیدہ ہیں۔

حالیہ مہینوں میں چین اور امریکہ کے درمیان سائبر حملوں کے سلسلے میں بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں