عراق میں داعش نے ’جوہری مواد پر قبضہ کر لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Al Hayat TV
Image caption اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اس جوہری مواد کے استعمال کے خدشے کو نظر انداز کیا ہے

عراق کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامی فی عراق و شام (داعش) نے موصل کی ایک یونیورسٹی سے جوہری مواد قبضے میں لے لیا ہے۔

یہ جوہری مواد موصل کی ایک یونیورسٹی میں سائنسی تحقیق کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوامِ متحدہ میں عراقی سفیر نے اقوامِ متحدہ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے تقریباً 40 کلوگرام یورینیئم اپنے قبضے میں لیا ہے۔

روئٹرز نے اس خط کو دیکھا ہے جس میں ’شدت پسندوں کے ہاتھوں عراق کے اندر یا بین الاقوامی سطح پر اس مواد کے استعمال کو روکنے‘ کی اپیل کی گئی ہے۔

عراقی سفیر محمد علی الحکیم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’شدت پسند گروپ اس مواد کو ضروری مہارت کے ساتھ الگ سے یا دوسرے مواد کے ساتھ ملا کر اپنی شدت پسند کارروائیوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اس جوہری مواد کے استعمال کے خدشے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ مواد افزودہ یورینیئم نہیں ہے۔

امریکی حکام نے مزید کہا ہے کہ باغیوں کے لیے بہت مشکل ہوگا کہ وہ اسے اسلحہ بنانے میں استعمال کر سکیں۔

بغداد سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع موصل پر داعش کے باغیوں نے گذشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔ سنی باغی ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔

اس سے ایک دن پہلے عراقی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ سنی عسکریت پسندوں نے بغداد کے قریب کیمیائی ہتھیار بنانے والی ایک سابق فیکٹری پر قبضہ کر لیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو لکھے گئے ایک خط میں عراق نے تسلیم کیا تھا کہ ماہِ جون میں سنی باغیوں نے المثنٰی کمپلیکس پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور میں اعصاب کو متاثر کرنے والے کیمیائی ہتھیار بنائے جاتے تھے۔

امریکہ نے تین ہفتے قبل کہہ دیا تھا کہ داعش کے عسکریت پسندوں نے کیمیائی ہتھیاروں کی فیکٹری پر قبضہ کر لیا ہے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ شاید وہ کیمیائی ہتھیار نہ بنا سکیں۔

گذشتہ کچھ عرصے کے دوران داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فوج سے ایک بہت بڑا علاقہ چھین لیا ہے اور کئی شہروں کے لیے جنگ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری ’تشدد اور انتہا پسندی‘ میں جون میں 2417 عراقی مارے گئے جس میں سے 1531 عام شہری ہیں۔

اسی بارے میں