غزہ میں صورتِ حال تباہی کے دہانے پر ہے: بان کی مون

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق منگل سے اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 70 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں

اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اسرائیل اور فلسطین پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’غزہ میں صورتِ حال تباہی کے دہانے پر ہے۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ ’یہ خطہ ایک اور مکمل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

ادھر اطلاعات کے مطابق منگل سے اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 70 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ خان یونس شہر کے قریب ایک مکان اور ریستوران پر فضائی حملوں میں20 فلسطینی ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی حملوں کے جواب میں مزید راکٹ فائر

فلسطینی نوجوان کو ’زندہ جلانے‘پر متعدد یہودی گرفتار

جمرات کو بھی شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیل میں راکٹ حمل جاری ہیں۔

بان کی مون نے کہا کہ ’بگڑتی ہوئی صورتِ حال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے،‘ اور ’تشدد پھیلنے کا خطرہ اب بھی حقیقی ہے۔‘

انھوں نے حماس سے اسرائیل پر راکٹ حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر بھی قابو میں رہنے پر زور دیتے ہوئے اسے عام شہریوں کے تحفظ کا خیال رکھنے کا کہا۔

اس سے پہلے حماس نے اسرائیل کی طرف سے فضائی حملوں کے بعد بدھ کی رات اسرائیل پر درجنوں راکٹ داغے۔

غزہ کے میڈیکل سٹاف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی زد میں آنے والے نصف افراد عام شہری ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ادھر اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے ملک کے محکمۂ دفاع کے حکام سے ملاقات کے بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر حملوں میں تیزی لائیں گے۔

انھوں نے اپنی اس بات کو دہرایا کہ حماس کو اسرائیل پر راکٹ حملوں کی ’بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔‘

اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ پر فضائی حملوں کے بعد حماس نے بدھ کو اسرائیل پر تقریباً 82 راکٹ حملے کیے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں کا ہدف شدت پسند جنگجو، ان کے ٹھکانے، اسلحے کے ذخائر، راکٹ لانچر اور بارودی سرنگیں ہیں۔

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ تمام اب اسرائیلی ان کے نشانے پر ہیں اور اس نے اسرائیل پر مصر کی مدد ہونے والی اس صلح کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان سنہ 2012 میں ہونے جھڑپیں ختم ہوئی تھیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل جمعرات کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی پر بات چیت کرنے کے لیے ملاقات کر رہی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ حماس کی طرف اسرائیل پر راکٹ حملے بند ہونے تک غزہ پر حملے جاری رہیں گے۔

اسرائیل کے صدر شمون پیریس نے سی این این کو بتایا کہ ’جلد ہی زمینی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔‘ اسرائیلی فوج نے اپنی ریزرو فورس کے 40 ہزار اہلکاروں کو طلب کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کو غزہ پر 129 فضائی حملے کیے۔ اس طرح اسرائیل کی طرف سے شروع کیے گئے آپریشن پروٹیکٹیو ایج کے دوران غزہ پر حملوں کی تعداد 550 ہو گئی ہے۔

غزہ میں محکمۂ صحت کے ایک افسر اشرف الخدرہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کو اسرائیلی حملوں میں شیجیا میں چار، زیتون میں دو اور بیتِ حنان میں دو فلسطینی ہلاک ہوئے۔

غزہ میں فلسطینی انسانی حقوق کے مرکز کے سربراہ راجی سورانی نے اسرائیل پر جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

انھوں نے بی بی بی کو بتایا کہ ’اس علاقے میں شدت پسندوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ اسرائیل عام شہریوں کو نشانہ بنا کر شدت پسند گروپوں پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔‘

دریں اثنا فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے بدھ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption غزہ کے میڈیکل سٹاف کا کہنا ہے کہ حملوں کی زد میں آنے والے آدھے افراد عام شہری ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

انھوں نے کہا کہ امریکی حکام ’حالات پر قابو پانے کی حوصلہ افزائی‘ کرتے رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے ترجمان مارک ریگیو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بجائے مزید کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسرائیلی فوج حماس کی عسکری مشینری کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔‘

حماس کے ترجمان اسامہ ہمدان نے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کو بحال کیا جا سکتا ہے لیکن وہ ایسا حل نہیں چاہتے کہ جلدی میں جنگ بندی ہو آئندہ ہفتے پھر کشیدگی شروع ہو جائے۔

حماس کی سیاسی شاخ کے رہنما خالد مشال نے خبردار کیا ہے کہ حماس اسرائیلی حملوں کا جواب دیتی رہے گی اور اس نے فلسطینیوں کو متحد ہونے کا کہا ہے۔

انھوں نے بین الاقوامی برادری کو بھی ’فلسطینی عوام کی حمایت نہ کرنے پر‘ تنقید کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب تین اسرائیلی اور ایک فلسطینی نوجوان کی ہلاکتیں ہوئیں۔

اسی بارے میں