’نماز کی وجہ سےگھٹنوں کی بیماری عام‘

Image caption اخبار دی نیشنل کے مطابق امکان یہی ہے کہ نماز کی وجہ سے گھٹنے کے جوڑ میں مسائل پیدا ہوتے ہیں

متحدہ عرب امارات میں موٹاپے اور نماز کے دوران جھکنے کی وجہ سے گھٹنوں کی بیماریاں بہت عام ہو گئی ہیں۔

امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے روزنامہ دی نیشنل کی رپورٹ کے مطابق دن میں پانچ وقت نماز کی ادائیگی کی وجہ سے گھٹنے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے سرجری کے ذریعے مصنوعی گھٹنوں کے آپریشنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ابوظہبی کے مفاراق ہسپتال کے ڈاکٹر پیٹر بریچ نے اخبار دی نیشنل کو بتایا کہ ’اگر آپ زندگی میں گھٹنوں کے بل دن میں کئی بار جھکتے ہیں تو گھٹنے کے جوڑ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور ان کی قدرتی ساخت کے مطابق ان میں اتنا اضافی بوجھ برداشت کرنے صلاحیت نہیں ہوتی۔‘

انھوں نے کہا کہ اس مذہبی فریضے کی ادائیگی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں لوگوں کے گھٹنوں کی ساخت ان ممالک کے لوگوں سے مختلف ہے جہاں لوگ گھٹنے کے بل نہیں جھکتے۔

’کیونکہ بچپن سے ادائیگیِ نماز کی عادت کی وجہ سے گھٹنے کی نشوونما دوسروں سےمختلف ہو جاتی ہے۔ ‘

اخبار کے مطابق گھٹنے کی بیماری ’arab knee‘ کے بارے میں اس سے پہلے کی جانے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دنیا کے دیگر خطوں کے برعکس یہاں پر گھٹنے جلدی انجری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تفریح کے طور پر فٹبال کھیلنے والے کھلاڑیوں میں گھٹنے کی انجری کے امکانات یورپی اور امریکی کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔

اس اخباری رپورٹ کے بارے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر خوب بحث جاری ہے۔

ایک شخص نے حیرت ظاہر کی ہے کہ اگر نماز اتنی نقصان دہ ہے تو دنیا میں ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں کےگھٹنے کیوں نہیں متاثر ہوتے۔

اخبار دی نیشنل کے مطابق یہی امکان ہے کہ نماز کی وجہ سے گھٹنے کے جوڑ میں مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن زیادہ خوراک کھانا بھی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں