چین ’مسلمان طلبہ کو روزہ رکھنے سے روکا جا رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صوبے سنکیاناگ میں اقلیتی برادری یویغر قیام پزیر ہے جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

چین کے مغربی صوبے سنکیاناگ میں مسلمان طلبہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں رمضان کے دوران روزہ رکھنے سے روکا جا رہا ہے۔

تینوں طلبہ کا تعلق کاشگر نارمل یونیورسٹی سے ہے اور انھوں نے حکومتی اداروں کے ڈر سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں یونیورسٹی کے پروفیسروں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے مجـبور کیا جا رہا ہے جبکہ انکار کرنے پر انھیں سزا دی جاتی ہے۔

ایک طلب علم نے کہا ’اگر آپ کو یہاں معمول کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے تو آپ کو روزے نہیں رکھنے ہوں گے‘۔

صوبے سنکیاناگ میں اقلیتی برادری اوغر آباد ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

یاد رہے کہ چین میں حالیہ حملوں کی ذمہ داری چینی حکومت نے اسلامی شدت پسندوں پر عائد کی تھی۔

جمعرات کو سنکیاناگ میں ایک عدالت نے 32 لوگوں کو پرتشدد ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے اور اسے دوسرے لوگوں کو بھیجنے کے جرم میں سزائیں سنائی تھیں۔

تاہم سنکیانگ میں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس انتہا پسندی کی وجہ چینی حکومت کی مسلمانوں کے مذہب اور ثقافت کے خلاف جبری پالیسیاں ہیں۔

تینوں طلبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے صوبے میں موجود یونیورسٹیوں میں روزہ رکھنے پر پابندی ہے اور کچھ ہسپتالوں میں تو مسلمان ملازمین کو روزہ نہ رکھنے کے معاہدوں پر دستخط کروائے گئے ہیں۔

رمضان اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ اس میں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کچھ نہیں کھاتے پیتے۔

تاہم بچوں اور بوڑھوں اور حاملہ خواتین کو اس معاملے میں چھوٹ ہے۔ حکومتی پروپیگینڈے کے تحت سنکیاناگ کے علاقے میں حکومتی اخبارات میں کھانا نہ کھانے کے نقصانات پر خصوصی طور پر چھاپا جا رہا ہے۔

طلبہ نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ یونیورسٹی حکام کی بات نہیں مانیں گے اور روزہ رکھیں گی، ان کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کئی سرکاری دفاتر نے رمضان کے دوران مسلمان عملے کے روزہ رکھنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اسی بارے میں