جھارکھنڈ: بچی سے جنسی زیادتی، تین افراد گرفتار

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس کے مطابق ایک 14 سالہ بچی کو انتقاماً جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں گاؤں کا مکھیا بھی شامل ہے۔

14 سالہ بچی کے بھائی پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے ایک عورت سے بدتمیزی کی اور بدلے میں اس کی بہن سے جنسی زیادتی کی گئی۔

بھارت میں عورتوں سے زیادتی کے واقعات پر وسیع پیمانے پر احتجاج اور مظاہروں کے باوجود مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔

سنہ 2012 میں دہلی میں بس کے اندر ایک طالبہ کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے جنسی تشدد پر قانون سخت کر دیے تھے۔

تازہ واقعہ کے بعد مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے والے ایک شخص کے ساتھ گاؤں کے مکھیا اور لڑکی کے بھائی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جھارکھنڈ پولیس نے بی بی سی کو بتایا کے یہ ریپ بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔

چھ جولائی سے ایک دن پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی عورت کے بھائی نے ملزم کی بیوی کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور گاؤں کے مکھیا پر یہ الزام ہے کہ اس نے ملزم کو ریپ پر اکسایا۔

اس واقعہ کے بعد بچی کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس نے پولیس کو بیان دیا۔

پولیس کے اہلکار کمار کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ ان کے علم میں پہلے کبھی نہیں آیا لیکن انڈیا میں یہ عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے حالیہ واقعات کی ایک خوفناک کڑی ہے۔

مئی کے مہینے میں انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش میں دو عورتوں کو گینگ ریپ کے بعد درخت سے لٹکا دیا گیا تھا۔

اس سال کے شروع میں جنوب مشرقی بنگال میں ایک قبائلی عورت کو اجتماعی طور پر ریپ کیا گیا اس پر گاؤں کے بڑوں نے کسی غیر مرد کے ساتھ تعلقات کا الزام لگایا تھا۔

اسی بارے میں