سکاٹ لینڈ میں خلائی اڈے کے قیام کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

برطانوی حکومت کے منصوبوں کے مطابق ملک میں خلائی پروازوں کے لیے پہلا مخصوص اڈہ سکاٹ لینڈ میں قائم کیا جا سکتا ہے۔

حکام چاہتے ہیں کہ برطانیہ میں خلائی اڈہ 2018 تک قائم کر دیا جائے اور یہ امریکہ سے باہر اس قسم کا پہلا مرکز ہوگا۔

اس مقصد کے لیے آٹھ مقامات میں سے حتمی چناؤ ہوگا جن میں سے چھ سکاٹ لینڈ میں ہیں۔

ادھر سکاٹ لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ خلائی صنعت میں ترقی کے لیے آزادی کی اپنی اہمیت ہے۔

برطانوی وزرا اور خلائی صنعت کے برطانیہ میں خلائی اڈے کی تعمیر میں دلچسپی کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہاں سے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے جا سکیں گے لیکن اسے مستقبل میں خلائی سیاحت کے لیے جانے والی پروازیں بھی استعمال کر سکتی ہیں۔

رواں ہفتے فارنبرو کے فضائی میلے میں اعلان سے قبل وزیرِ خزانہ ڈینی الیگزینڈر نے اس حوالے سے مزید کہا ہے کہ تجارتی بنیادوں پر خلائی سفر کو ترقی دینے کے لیے حکومت کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں سکاٹ لینڈ کا اہم کردار ہوگا۔

وزیر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ اڈہ سنہ 2018 سے پہلے قائم کیا جائے اور یہ خلائی سیاحت کے لیے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

Image caption سکاٹ لینڈ میں برطانیہ کا پہلا خلائی اڈا

ڈینی الیگزینڈر کا کہنا تھا کہ خلائی تحقیق کے حوالے سے سکاٹ لینڈ اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے: ’ہم نیل آرمسٹرانگ کی کامیاب کی یاد منا رہے ہیں۔ ان کے آباواجداد بھی سکاٹ لینڈ کے رہنے والے تھے۔ نیل آرمسٹرانگ چاند پر پہنچنے والے پہلے انسان تھے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’گذشتہ ہفتے ایک سکاٹش کمپنی نے برطانیہ کی خلائی ایجنسی کا پہلا سیٹلائٹ سسٹم تیار کیا ہے۔‘

وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی خلائی صنعت ہماری بہت بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہو گی اور مجھے یقین ہے کہ سکاٹ لینڈ مستقبل میں اس حوالے سے بہتر کردار ادا کرے گا۔

اِس ہفتے کے دوران گلاسگو کی ایک کمپنی کے بنائے ہوئے ایک سیارے (یوکیوب-1) کو نہایت کامیابی کے ساتھ قزاقستان سے تجرباتی بنیادوں پر خلا میں چھوڑا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک خلائی جہاز مکمل طور پر سکاٹ لینڈ میں بنایا گیا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق خلائی صنعت ان شعبوں میں سے ہے جو برطانیہ میں بہت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ اس سال قومی معیشت میں اس شعبے کا حصہ گیارہ ارب پاؤنڈ تھا جو کہ سنہ 2011 کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔

سکاٹ لینڈ کے وزرا کو امید ہے کہ وہ ترقی کو مزید بڑھائیں گے اور سنہ 2030 تک خلائی صنعت کی عالمی منڈی میں سکاٹ لینڈ کا حصہ دس فیصد تک ہو جائے گا۔

اسی بارے میں