غزہ پر ساتویں روز بھی اسرائیلی بمباری جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غزہ میں اسرائیلی افواج کی کارروائی کے ساتویں روز بھی اسرائیلی فضائیہ کے حملے جاری ہیں اور شمالی اسرائیل پر راکٹ حملوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق جمعرات سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اب تک 172 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا اس دوران غزہ سے ایک ہزار راکٹ داغے جا چکے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ پیر کی صبح انھوں نے اشدود کے قریب ایک فلسطینی ڈرون بھی مار گرایا ہے۔

اسرائیلی فضائی حملوں کا دوبارہ آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں کو اپنے گھر چھوڑنے کی تنبیہ کے بعد علاقے سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔اتوار کو اسرائیلی فوج نے بیت لاحیہ کے قصبے پر پمفلٹ پھینکے تھے جن میں عام شہریوں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے شمالی علاقے میں حملے کر سکتی ہیں۔

ان اطلاعات کے درمیان کہ اسرائیل غزہ میں زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، اسرائیل نے اپنے ہزاروں فوجیوں کو غزہ کی سرحد کے جمع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو اسرائیلی کمانڈوز نے اپنی پہلی زمینی کارروائی میں غزہ میں ایک مقام کو نشانہ بنایا جس کے بارے کہا جا رہا ہے کہ وہاں سے اسرائیل علاقوں پر راکٹ پھینکے جاتے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک شمالی غزہ سے 1700 فلسطینی آٹھ کیمپوں میں پناہ حاصل کر چکے ہیں۔

پیر کی صبح اسرائیل نے فضائی حملوں میں غزہ شہر میں حماس کے تین فوجی تربیتی مراکز اور عمارتوں کو نشانہ بنایا جس میں اے ایف پی کے مطابق کئی افراد زخمی ہوئے۔

لبنان سے فائر کیے جانے والے راکٹ شمالی اسرائیل میں گرے جس کے جواب میں اسرائیلی توپ خانے نے بھی گولہ باری کی ہے۔اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق غزہ سے داغے جانے والے ایک راکٹ سے اسرائیل میں بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے ، جس کے بعد غزہ کے 70 ہزار شہریوں کو ملنے والی بجلی منقطع ہو گئی ہے۔

غزہ کی صورت حال پر بات چیت کے لیے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو قاہرہ میں ملاقات کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے 77 فیصد عام شہری تھے، تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار درست نہیں کیونکہ ان کی بنیاد حماس کے ذرائع ہیں جو غیر جانبدار نہیں۔

اس سے قبل اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے کے لیے اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان آگال پالمر کا کہنا تھا کہ شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری حماس کے کاندھوں پر ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کی شدید سفارتی کوششوں کے باوجود فریقین جنگ بندی پر راضی نہیں ہیں۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے مدیر جیرمی بوون کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ طرفین کسی قسم کی جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ عالمی دباؤ کے تحت رک جائے گی۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے منگل سے فلسطینی علاقے میں بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اب تک سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اس کی سرزمین پر راکٹ حملوں کا ردعمل ہیں لیکن راکٹ حملوں سے اسرائیل میں ایک بھی شخص کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اسرائیل اور حماس کے ہتھیار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سرائیلی فوج اور حماس کے عسکری شعبے سمیت غزہ کی پٹی میں موجود دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی ایک ایسی جنگ ہے جس میں دونوں فریقوں کو دستیاب ہتھیاروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

عسکری صلاحیت میں اتنے زیادہ فرق کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کو اچھے خاصے دباؤ سے دوچار کر سکتے ہیں۔

ہتھیاروں میں فرق کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ دونوں جانب ہلاکتوں کی تعداد میں بھی بہت فرق ہوگا۔ حالیہ تنازعے میں جوں جوں اسرائیل کے فضائی حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

غزہ چھوٹے سے رقبے پر پھیلا ہوا ایک گنجان آباد مقام ہے، اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کے ڈھانچے کا بڑا حصہ اسی شہر کی گلی محلوں میں قائم ہے۔

اسرائیلی افوج کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ عام شہری ان کے حملوں کی زد میں کم سے کم آئیں، لیکن اسرائیلی فوج کی موجودہ حمکت عملی کے کئی پہلو ایسے ہیں جن کی اسرائیل کی انسانی حقوق کی اپنی تنظیمیں مذمت کر رہی ہیں، مثلاً غزہ کی گنجان آبادی میں موجود مشہور فلسطینی عسکری کمانڈروں کے گھروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر ہر کسی کو اعتراض ہے۔

اگرچہ اسرائیلی فوج عسکری کمانڈروں کے گھروں کو نشانہ بنانے سے پہلے علاقے کے لوگوں کو خبردار بھی کرتی ہے لیکن اس سے یہ حقیقت ختم نہیں ہو جاتی کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی اموات ہو رہی ہیں۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں فریق اس لڑائی میں کیا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں کہ دونوں جانب تناؤ بڑھتا جا رہا ہے اور خونریز زمینی لڑائی کے امکانات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

فلسطینی راکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غزہ میں موجود حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں نے گذشتہ برسوں میں نہ صرف بنیادی راکٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا ہے بلکہ یہ گروہ ان راکٹوں کی صلاحیت میں بھی مسلسل اضافہ کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ ان میں کوئی بھی راکٹ ایسا نہیں ہے جسے آپ ایک اہم ہتھیار کہہ سکیں، تاہم اس جنگ میں ان راکٹوں کی اہمیت بھی زیادہ ہے۔

ان راکٹوں کی اکثریت سوویت ساخت کی ہے اور بنیادی طور پر یہ تمام آرٹلری یا توپ کے ذریعے پھینکے جانے والی راکٹ ہیں۔ان راکٹوں کی ساخت ایسی ہے کہ انھیں انفرادی طور پر نہیں پھینکا جا سکتا۔

ان میں کچھ راکٹ تو سرنگوں کے ذریعے صحرائے سینا سے سمگل کیے گئے، کچھ غزہ کی پٹی پر حماس کی اسلحہ فیکٹریوں میں بنائے گئے، تاہم ان راکٹوں کی بڑی تعداد کا انحصار اب بھی ان پُرزوں پر ہے جو سرنگوں کے ذریعے ایران اور شام سے سمگل کیے جاتے ہیں یا کسی دوسرے راستے سے غزہ پہنچائے جاتے ہیں۔

کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں میں بڑے گولے، گراڈ اور قسّام راکٹ شامل ہیں جو بالترتیب 48 کلومیٹر اور 17 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کو خطرہ ہے کہ ان راکٹوں سے جنوبی اسرائیل میں سدورت، آشکلون کے قصبوں اور حتیٰ کہ اشدود کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے علاوہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے پاس دُور تک مار کرنے والے فجر-5 راکٹ ہیں جنھیں بعض اوقات ایم-75 کی شکل بھی دی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ 75 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں جس سے تل ابیب اور یروشلم جیسے اسرائیل کے بڑے آبادی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن فجر-5 کے استعمال میں حماس کو بڑے عملی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ راکٹ نہ صرف وزن میں بہت زیادہ ہے بلکہ اس کا حجم (تقریباً چھ میٹر) بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح نہ تو اسے ہاتھوں سے لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے زیادہ دیر تک اسرائیل کے ڈرونز کی نظروں سے اوجھل رکھا جا سکتا۔

حالیہ لڑائی میں فلسطینیوں نے بظاہرایک نیا دُور مار کرنے والا راکٹ بھی استعمال کیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ شام کا بنا ہوا خیبر-1 میزائل ہے۔ اسے غزہ سے پہلی مرتبہ اسے اِس ماہ کے شروع میں داغا گیا تھا اور یہ 160 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خیبر-1 کے علاوہ موجودہ لڑائی میں حماس کی جانب سے ایم-302 میزائل کے استعمال کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں جو کہ خیبر-1 جتنے فاصلے تک مار کر سکتا ہے۔

حماس اور اسرائیل کی لڑائی میں یہ بات بہت اہم ہے کہ کوئی راکٹ کتنی دُور تک مار کر سکتا ہے، کیونکہ اگر یہ ٹھیک نشانے پر نہ بھی لگے تب بھی حماس کے راکٹوں سے اسرائیلی علاقوں میں معمول کی زندگی میں خلل اور عوام میں خوف پیدا کیا جا سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں اسرائیل کی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم اس دباؤ کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے۔ اس سے اسرائیل غزہ پر حملوں میں اضافہ بھی کر سکتا ہے لیکن اسرائیل پر یہ دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے کہ وہ اس جنگ کو طول نہ دے اور اسرائیلی عوام کو خوف سے بچائے۔

حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے زیادہ دیر تک نہیں کر سکتے۔ اسرائیلی خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ تو موجود ہے لیکن اس کے دُور مار کرنے والے راکٹوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ فلسطینی رہنما یہ بات بھی جانتے ہیں کہ جب سے نئی مصری حکومت نے غزہ اور صحرائے سینا کے درمیان سرنگوں کو بند کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں، مستقبل میں میزائل اور ان کے پُرزے غزہ پہنچانا آسان نہیں رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ فلسطینی گروہ محض اسرائیلی فضائی حملوں کے نشانے پر ہیں، بلکہ انھوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے زمینی کارروائی کو روکنے کے لیے دفاعی منصوبے بھی تشکیل دیے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے فلسطینیوں نے ماضی کی اسرائیلی کارروائیوں سے سیکھتے ہوئے زیر زمین راستوں سے اسرائیلی فوجیوں کے غزہ میں داخلے کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کر رکھے ہوں گے۔

اس کے علاوہ فلسطینیوں نے اسرائیلی علاقوں پر محدود پیمانے پر حملے کرنے کی کوشش بھی کی ہے، جس میں اسرائیلی بحریہ کی نظروں سے بچ کر چھوٹے چھوٹے مسلح گروہوں کو اسرائیلی ساحل سمندر پر اتارنا بھی شامل تھا، تاہم اسرائیل جلد ہی ان لوگوں کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اب تک حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل نے دفاعی حمکت عملی کے ساتھ ساتھ غزہ پر حملے بھی جاری رکھے ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ گذشتہ دنوں میں غزہ میں ان مقامات پر تابڑ توڑ حملوں کے دوران ہر قسم کے میزائل استعمال کر چکی ہے جہاں سے حماس کے راکٹ برسائے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ کے ان حملوں میں درجنوں فلسطینی شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، لیکن ماضی کے اسرائیلی فضائی حملوں کے مقابلے میں حالیہ حملے ابھی تک اتنے شدید نہیں ہوئے۔

اسرائیل کے دفاعی اقدامات اور اس کے حملوں، دونوں میں اسرائیل اپنے اُس دفاعی نظام کو بہت اہمیت دیتا ہے جس کے تحت اس نے اپنے عام شہریوں کے بچاؤ کے لیے آہنی گنبد یا ’آئرن ڈوم‘ بنایا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک اسرائیل کا یہ نظام کامیاب ہے، حالیہ جنگ کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

اگر یہ دفاعی نظام کام نہیں کرتا اور غزہ سے کسی راکٹ حملے میں اسرائیلی شہریوں کی قابل ذکر تعداد زخمی یا ہلاک ہو جاتی ہے تو اسرائیل یقیناً زمینی کارروائی شروع کر دے گا۔

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کی صبح تک اسرائیل پر 255 راکٹ پھینکے گئے جن میں صرف 75 ایسے تھے جنھیں اسرائیل اپنے آہنی گنبد سے روکنے میں کامیاب رہا۔

فضائیہ اور آہنی گنبد کے علاوہ اسرائیل نے غزہ میں زمینی کارروائی کے لیے اپنی افواج کو تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب تک تین بریگیڈ غزہ کی پٹی کے ساتھ ساتھ تعینات کیے جا چکے ہیں جبکہ اضافی فوجیوں کو بھی تیار رہنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ non

اگر راکٹ حملے جاری رہتے ہیں تو اسرائیلی فضائی حملے بھی جاری رہیں گے اور ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر عالمی تنقید میں میں بھی شدت آئے گی، لیکن اگر حماس کے راکٹ حملے نہیں تھمتے تو اسرائیل کے حمایتی اور دوست ممالک بھی یہ محسوس کریں گے کہ وزیرِاعظم نتن یاہو کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

لیکن دوسری جانب حماس بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مصر کے ساتھ اس کے خراب تعلقات، اس کے مالی مسائل اور غرب اردن میں اس کے ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کا مطلب یہی ہے کہ حماس تنہا ہوتی جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ حماس کے عسکری کمانڈروں کی خواہش ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف جس ’مزاحمت‘ کا مظاہرہ کیا ہے اس کے صلے میں انھیں کچھ تو حاصل ہو۔

حماس کا کمزور ہونا اسرائیل کے حق میں بھی اچھا نہیں۔ اسرائیل میں دائیں بازو کی خواہش تو یہی ہے کہ حماس کا نام و نشان مٹا دیا جائے، لیکن اسرائیل ایسا کر نہیں سکتا، کیونکہ اگر حماس حکومت میں نہیں رہتی تو انتہاپسند جہادی معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور اردگرد کے علاقوں سے مزید جہادی غزہ پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ اس سے اسرائیل کے مستقبل کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

موجودہ لڑائی میں اسرائیل کا اصرار یہ ہے کہ وہ غزہ میں داخل نہیں گا، لیکن حماس کی سب سے بڑی ’کامیابی‘ یہی ہوگی کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کے اندر کھینچ لائے۔

اب غزہ میں جینا مشکل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

غزہ پر اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 170 سے زائد ہو چکی ہے۔

اسرائیل نے منگل کو شروع کیے گئے آپریشن میں اب تک سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ ادھر غزہ سے بھی درجنوں راکٹ حملے کیےگئے ہیں۔ اس بگڑتی صورتحال پر اسرائیلی اور فلسطینی لوگوں نے اپنے خیالات بیان کیے ہیں۔

راکٹ حملوں کے بعد سڑکیں اب خالی ہیں۔ ہم نے سنا ہے کہ کل شاید زمینی حملہ ہو۔

یہ پانچ برس میں تیسری لڑائی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس مرتبہ اسرائیل کہ پاس کوئی واضح مقصد بھی نہیں ہے۔ وہ صرف عام شہریوں کو مار رہے ہیں اور گھروں کو نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلی جنگ میں انھوں نے واضح طور پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جبکہ دوسری جنگ میں انھوں نے اسلحے کے ذخائر کو ہدف بنایا۔

مغربی میڈیا اسے تین اسرائیلی طالب علموں کے قتل کا بدلہ قرار دے رہا ہے لیکن اس واقعے کی ذمہ داری کسی فلسطینی گروہ نے قبول نہیں کی۔ عموماً اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے تسلیم کرتا ہے۔ ہم نہیں جانتے ہیں در حقیقت کیا ہوا تھا۔ تاہم یہ سب ایک اجتماعی سزا جیسا ہے۔

میں نے یہاں مزاحمت کرنے والوں سے سنا ہے کہ اسرائیل اور غزہ ایک دوسرے کو کُچلنا چاہتے ہیں حالانکہ ہم کمزور فریق ہیں۔

یہاں رہنا خوفناک ہے۔ ہم محاصرے میں ہیں۔ ہم یہاں کوئی چیز درآمد نہیں کر سکتے۔ ہمیں صرف آٹھ گھنٹوں تک بجلی ملتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم کوئی چیز تعمیر نہیں کر سکتے۔ میں پیشے سے سوّل انجینیئر ہوں لیکن یہاں کوئی تعمیراتی مواد نہیں ہے۔ صنعت کاری تباہ ہو گئی ہے۔ زراعت بہت کم ہو چکی ہے۔ ہم اس طرح زندہ نہیں رہ سکتے۔

ہم پریشان ہیں۔ پہلی بار مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ زندگی جینے کے قابل نہیں ہے۔

ہمیں وقار کے ساتھ جینے کا حق ہونا چاہیے۔ دنیا کو ہماری مدد کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ امن عمل بہت مشکل ہے اور 20 برس سے بنا کسی حل کے جاری ہے۔ کچھ ہے جو ان کے درمیان حائل ہے، اگر مغرب چاہے تو کوئی راہ نکل سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہاں پہلا حملہ پیر کو دس بجے ہوا اور کل بھی شام چھ بجے کے قریب دوبارہ ہوا۔ میں نے خلیجی جنگ دیکھی اور سنہ 1991 میں ہونے والے حملے دیکھے۔ لیکن میرے بچوں، 13 برس کی بیٹی اور گیارہ برس کے بیٹے کے لیے ایسی صورتحال میں رہنا مشکل ہے۔

انھوں نے یہاں رات سونے سے انکار کر دیا۔ ہمارے پاس فضائی حملے سے بچنے کے لیے کوئی ڈھال نہیں یا کوئی محفوظ کمرہ بھی نہیں ہے۔ وہ ہمسائے میں اپنے دوستوں کے ساتھ سوتے ہیں جن کے گھر میں محفوظ کمرہ ہے۔ محفوظ نہ ہونے کے سبب میری شادی شدہ بیٹی نے یہاں آنے سے منع کر دیا ہے، اس کا ایک بچہ بھی ہے۔

ہم رات کو جوتے اتار کر سونے سے پہلے سوچتے ہیں کہ کہیں آدھی رات کو اٹھ کر بھاگنا نہ پڑ جائے۔ سر پر لٹکتی خطرے کی تلوار سے ساتھ ہم رات کو سو نہیں سکتے۔

میں طبی سامان برآمد کرنے والے فیکٹری میں کام کرتا ہوں وہاں فضائی حملے کی صورت میں ردِعمل کی مشق کروائی گئی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کسی بھی حملے کی آواز سن کر سیڑھیوں کے نیچے پناہ لیں لیکن میرے گھر میں سیڑھیوں کے پاس ایک بڑی شیشیے کی کھڑکی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہاں ایسا کرنا عقلمندی ہوگی۔

میں جانتا ہوں کہ ہماری فوج پیشہ ور ہے اور میں شکر گزار ہوں کہ وہ ہماری حفاظت کر رہی ہے لیکن ہم ان پر ہر چیز کے لیے انحصار نہیں کر سکتے۔ مجھے ان پر مکمل اعتماد نہیں ہے اور نہ ان کے فیصلوں پر۔

مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب شہری زخمی ہوتے ہیں خواہ وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا مسلمان۔ مجھے ان فلسطینیوں سے ہمدردی ہے جن کے بچے یہ سب برداشت کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے مجھے اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہر عام آدمی اس مسئلے کا حل چاہتا ہے لیکن شدت پسند لوگ اس کا پر امن حل نہیں چاہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

غزہ میں زیادہ تر عمارتیں عام شہریوں کے گھر ہیں۔ ہم سچ میں سیز فائر چاہتے ہیں لیکن دونوں جانب سے۔

میڈیا دکھا رہا ہے کہ دنوں جانب سے حملے ہو رہے ہیں لیکن یہ نہیں دکھا رہے کہ اسرائیل کی جانب سے کتنے بڑے حملے ہو رہے ہیں اور اس کی فوج کتنے شدید حملے کرنے کی اہل ہے۔ جب وہ حملہ کرتے ہیں تو ہمارا بہت نقصان ہوتا ہے۔

سنہ 2009 میں ہونے والی لڑائی بدترین تھی لیکن کل بہت عرصے کے بعد دوبارہ ایسا لگا کے یہاں رہنا کتنا مشکل ہے۔

اسرائیلیوں نے ہماری ہمسائے میں ریکارڈیڈ پیغامات چھوڑے کہ وہ حملہ کرنے والے ہیں لہٰذا گھروں سے نکل جائیں۔ ہم خوفزدہ ہو گئے لیکن ہمیں بتایا گیا کہ وہ ایسا مسلسل کر رہے ہیں اس لیے ہم گھر پر ہی رہے۔

یہاں غزہ میں ہمیں اپنے گھروں کے دفاع کا حق حاصل نہیں اور اسرائیل اپنے دفاع کے لیے تمام حربے استعمال کر رہا ہے۔

سٹیفن چیلمز، اسرائیل اور برطانیہ کی دوہری شہریت کے حامل ہیں:

مجھے فلسطینوں کے نقصان پر افسوس ہے لیکن یہ سب فلسیطینوں کا قصور ہے کہ ہم فلسطینی بچوں کی لاشیں دیکھ رہے ہیں کیونکہ انھوں نے بچوں کو وہاں سے نہیں نکالا۔ اگر اسرائیل پر حملہ ہوتا ہے کہ تو وہ بچوں کو وہاں سے نکال دیتے ہیں لیکن عربوں کی جنگ اور تباہی والی ذہنیت ایسا نہیں کرتی۔

ان کا تعلیمی نظام انہیں یہ سکھاتا ہے کہ فلسطین کو آزاد کراؤ، سنی کو شیعہ سے لڑاؤ، اسرائیلی کو فلسطین کے خلاف لڑاؤ۔ وہ آئندہ نسل جنگجوؤں کی پیدا کر رہے ہیں اور لڑائی کو طوالت دے رہے ہیں۔

غزہ خوشحال ہو سکتا ہے یہاں چار فائیو سٹار ہوٹل ہیں اور بہترین ساحل بھی۔ یہاں بہت دولت ہے اور یہ لوگ سیاحتی مقام کے طور پر لبنان سے آگے نکل سکتے ہیں لیکن حماس کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ عورتیں اور بچے اس لیے مارے جا رہے ہیں کیونکہ وہ حماس کے کمانڈر کے ٹھکانوں کے قریب مقیم ہیں۔ اگر یہ کمانڈرز اسرائیل پر حملے جاری رکھیں گے تو ان پر بھی حملے ہوں گے۔

حماس اور فلسطینی انتظامیہ میں بھی کوئی اتفاق نہیں ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس تل ابیب کے ہسپتال میں علاج کروا رہے تھے اور حماس نے وہاں راکٹ حملے کیے۔

میرا نہیں خیال کہ اسرائیل زمینی حملہ کرے گا کیونکہ اس سے کافی مشکلات پیدا ہوں گی۔ ان لوگوں کو اپنی اور کسی کی بھی جان کی پرواہ نہیں ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شام اور عراق میں یہ اپنے ہی لوگوں کی جان لے رہے ہیں۔