جنگ بندی ناکام غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شدت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حماس نے اس پیشکش کا باضابطہ جواب نہیں دیا لیکن اس کے عسکری ونگ نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ پیشکش ’شکست تسلیم کرنے‘ کے مترادف ہے

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ مصر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود اسرائیل پر کیے جانے والے راکٹ حملوں کے بعد ان کے بعد فضائی حملے جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اسرائیل نے منگل کو مختصر وقفے کے بعد غزہ پر فضائی حملے دوبارہ شروع کیے ہیں۔اسرائیل نے غزہ میں فضائی حملے بند کرنے کے لیے مصر کی تجویز قبول کر لی تھی اور منگل کی صبح حملے روک دیے تھے لیکن اس دوران حماس کے راکٹ حملے جاری رہے جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر بمباری کا سلسلہ پھر شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حماس کے عسکری وِنگ نے اسرائیل کی جانب سے امن کی تجویز تسلیم کرنے کو اس کی کمزوری گردانتے ہوئے اسے اس کی ’شکست‘ سے تعبیر کیا۔

فلسطینی حکام کے مطابق گذشتہ آٹھ دن سے جاری اسرائیلی بمباری میں کم از کم 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے منگل کی شام کہا تھا کہ اسرائیل کے پاس آپریشن جاری رکھنے کے سو کوئی راستہ نہیں ہے۔

انھوں نہ کہا ’ حماس نے لڑائی کا انتخاب کیا ہے اور اب وہ اپنے فیصلے کی قیمت ادا کریں گے۔ جو سیز فائر نہںی ہوگا تو ہمارا جواب فائر (حملہ) ہوگا۔‘

تازہ حملوں سے قبل بدھ کی صبح اسرائیل نے غزہ میں فضائی حملے بند کرنے کے لیے مصر کی تجویز اس شرط پر قبول کر لی تھی کہ جواب میں عسکریت پسند اسرائیل پر راکٹ داغنا بند کر دیں گے۔ اگرچہ حماس نے اس پیشکش کا باضابطہ جواب نہیں دیا، البتہ حماس کے عسکری دھڑے نے اسے ’شکست تسلیم کرنے‘ کے مترادف قرار دیا۔

تاہم حماس نے کہا تھا کہ سیز فائر سے پہلے ایک مکمل معاہدہ طے کرنا ہوگا۔

مصر نے غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے سیز فائر کروانے کی پیش کش کی تھی۔

پیش کش میں کہا گیا تھا کہ منگل کی صبح سے سیز فائر کیا جائے جس کے بعد قاہرہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں دونوں جانب سے وفود شریک ہوں۔

حماس کے ترجمان فوذی برہوم کا کہنا تھا ’کسی بھی معاہدے تک پہنچے بغیر سیز فائر مسترد کیا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران آپ پہلے سیز فائر اور پھر مذاکرات نہیں کرتے۔‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین چوتھائی سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے مطابق ان حملوں میں 1400 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹوں سے چار اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فضائی حملوں کے بعد حماس مزید کمزور ہوگئی ہے کیونکہ اس کے کئی راکٹ اور راکٹ بنانے کی تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔

سیز فائر کا مطالبہ قاہرہ میں عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔

ہزاروں افراد نے غزہ سے نقل مکانی کی ہے جبکہ اسرائیل نے سرحد کے ساتھ ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں اور ایسی چہ میگوئیاں ہو رہی کہ کہ اسرائیل زمینی حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔

غزہ میں حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے الجزیرہ پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا کہ حماس نہ صرف اس لڑائی کا خاتمہ چاہتا ہے بلکہ اسرائیل کی جانب سے اس محاصرے کا بھی خاتمہ چاہتا ہے جس نے غزہ میں زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ غزہ کی حقیقت ہے، فاقہ کشی، بمباری۔ یہ محاصرہ ختم ہونا چاہیے اور غزہ کے لوگوں وقار کے ساتھ رہنا ہے۔‘

اسرائیل نے اس وقت غزہ کا محاصرہ کیا تھا جب امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جانے والی حماس نے سنہ 2007 میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ غزہ سے اس کے شہروں پر راکٹ حملے بند کر دیے جائیں۔

مصر کے سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بھی منگل کو قاہرہ آئیں گے تاکہ کسی معاہدے پر پہنچنے میں مدد کر سکیں، لیکن امریکہ نے تاحال ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن ایلچی ٹونی بلیئر نے مصر کی جانب سے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں