اذان سننے کے لیےخانہ کعبہ میں ہزاروں لاؤڈ سپیکر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسجد الحرام میں رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے

مکہ میں خانہ کعبہ میں بہتر سماعت کے لیے ایک جدید نظام نصب کیا گیا ہے، جس میں بہت بڑے بڑے لاؤڈ سپیکر نصب کیے گئے ہیں تاکہ نمازی کئی میل دور سے بھی مسجد میں ہونے والی نماز و عبادات کی آواز سن سکیں۔

عرب نیوز کے مطابق کوئی چار ہزار کے لگ بھگ بڑے بڑے سپیکر مسجد کے چاروں اطراف لگانے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ زائرینِ کرام رمضان کے دوران اور حج کے ایام میں آیاتِ قرآنی اور دعاؤں کی آوازیں باآسانی اور صاف طور پر سن سکیں۔

مساجد کے آپریشن ڈائریکٹر فارس السعدی کا کہنا ہے کہ نئے سپیکروں کی آواز نو کلومیٹر دور سے سنی جا سکے گی۔ سپیکروں میں ایسے آلات بھی نصب کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ان کی آواز تیز ہواؤں سے متاثر نہیں ہو گی اور خراب موسم میں بھی صاف سنائی دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ابراج البیعت‘ نامی اس مینار کی چوٹی پر نصب سبز روشنی 30 کلومیٹر دور سے نظر آئے گی

اس کے علاوہ مکے کے بڑے کلاک ٹاور پر سبز روشنیاں لگائی گئی ہیں جو نماز کے اوقات میں روشن ہو جایا کریں گی، جن سے نمازیوں کو بہت فاصلے سے نمازوں کے اوقات کا علم ہو سکے گا۔

601 میٹر اونچا ’ابراج البیعت‘ نامی یہ مینار جو کسی عمارت سے جڑا ہوا نہیں پہ، دنیا کا تیسرا بلندترین مینار ہے اور اس کی چوٹی پر نصب سبز روشنی 30 کلومیٹر دور سے نظر آئے گی۔ سماعت سے محروم یا اونچا سننے والے نمازی اور زائرین اس سے مستفید ہو سکیں گے۔

مکہ میں مسجد الحرام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے اندازوں کے مطابق اس برس رمضان کے دوران زائرین کی تعداد میں 15 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس کے پیشِ نظر مسجد میں بیٹھنے کی جگہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ چار ہزار کے لگ بھگ نئے بیت الخلا بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق صرف ماہ رمضان کے دوران 15 لاکھ کے قریب زائرین خانہ کعبہ کی زیارت اور عبادات کے لیے مسجد الحرام میں آتے ہیں جبکہ حج کے ایام میں یہ تعداد اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

اسی بارے میں