چور ریل کی پٹڑی لے اڑے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جائل - جوہانسبرگ ٹریک پر اب آخری سٹیشن سے پہلے ہی گاڑی چھوڑنا پڑے گی

جنوبی افریقہ میں لوہا چوروں نے ریل کی دس کلومیٹر لمبی پٹری چرا لی ہے جس سے قومی خزانے کو کم از کم 23 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

روزنامہ ’سٹار‘ کے مطابق چوروں نے یہ کام ایک دن میں نہیں کیا بلکہ وہ گذشتہ کئی ماہ سے ریل کی اُس پٹری کے ٹُکڑے اتارتے رہے جو جوہانسبرگ کے ریلوے سٹیشن کو نائجل نامی قصبے سے ملاتی تھی جہاں پر ریلوے کا ایک ڈپو ہوا کرتا تھا۔

پولیس نے منگل کو عدالت میں پانچ افراد کو پیش کیا جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک سکیورٹی گارڈ نے گشت کے دوران ان پانچوں کو ’یہ حرکت کرتے دیکھا تھا۔‘

مقامی ٹرانسپورٹ کمیٹی کے ایک رکن تھمبُو مہلنگو کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ اس کام میں بہت ماہر ہیں۔ یہ لوگ بڑی صفائی سے پٹری چراتے رہے ہیں۔‘

ریلوے کے ترجمان نے کمیٹی کے رکن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ان لوگوں کو عام لڑکے نہ سمجھیں۔اتنی زیادہ وزنی پٹری کو کاٹنا اور پھر سے وہاں سے اٹھا کر لے جانا، یہ کام آپ محض ہاتھوں سے نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لیے آپ کو خاص مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق پرانی دھاتوں کی منڈی میں دس کلومیٹر طویل پٹری کی قیمت ایک لاکھ بیس ہزار پاؤنڈ بنتی ہے۔

نائجل کے ریلوے ڈپو اور جوہانسبرگ کے درمیان پٹری کے چوری ہونے کی وجہ سے ریلوے کی 34 بالکل نئی بوگیاں ایک پلانٹ پر پھنس کر رہ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ چوری کی خبر کے بعد ریلوے کے ڈپو پر کام کرنے والے سات سو ملازمین بھی پریشان ہیں کہ حکومت اس ڈپو کو ہمیشہ کے لیے بند کر کے انھیں ملازمت سے فارغ کر دے گی۔

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ میں لوہے اور دوسری دھاتوں کی چوری ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس سے قومی معیشت کو ہر سال لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں