بڑے پیمانے پر نگرانی خطرناک عادت: اقوامِ متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مختلف حکومتوں کی جانب سے وسیع نگرانی کی خطرناک عادت ہے: نیوی پلے

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے وسیع نگرانی کے پروگرام کو بغیر سوچے سمجھے منظور کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کے پروگرام کو متوازن بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کسی کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نگرانی کے مقصد سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا حاصل کرنا نہ تو ضروری تھا اور نہ مناسب۔

خیال رہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانوی حکومت نے ایمرجنسی میں ایک ایسے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت انٹرنیٹ سروس پروائیڈ اور موبائل کمپنیاں ڈیٹا اکٹھا کر سکیں گی۔

اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی کمشنر نیوی پلے کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں مختلف حکومتوں کی جانب سے وسیع نگرانی کے پروگرام کے بارے میں سامنے آنے والے حقائق بہت ’پریشان کن‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف حکومتوں کی جانب سے وسیع نگرانی کی یہ خطرناک عادت بنتی جا رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا یہ پروگرام پرائیویسی میں مداخلت کرتے رہے ہیں اور حکومتوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یہ پابندی نہ تو من مانی ہو اور نہ غیر قانونی۔

اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی کمشنر کے مطابق حکومتیں شہریوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے عمل میں جتنی دور گئی ہیں، انھیں شہریوں پر نظر رکھنے کو جائز قرار دینے اور زیادتیوں کی روک تھام کے لیے اتنی ہی زیادہ کوشش کرنا پڑی ہیں۔

اسی بارے میں