ملائیشیا ایئر لائنز کے مستقبل پر سوالیہ نشان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائیشیا ایئر لائنز کئی سالوں سے خسارے میں ہے اورگذشتہ نو مہینوں میں بازار میں اس کی قدر 40 فیصد سے زیادہ گر گئی ہے

ملائیشیا ایئر لائنز کا طیارہ ایم ایچ 17 جمعرات کو یوکرین میں گر کر تباہ ہونے کے بعد ملائیشیا کے بازار حصص میں کمپنی کے حصص 11 فیصد گر گئے۔

ایشیا کے بعض بازارِ حصص بھی کم کاروبار کر کے اس خوف سے بند ہوئے کہ ملائیشین طیارہ گرنے کی وجہ سے روس، یوکرین اور مغربی ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ جائے گی۔

یاد رہے کہ جمعرات کی شب ملائشیا ایئر لائنز کا مسافر بردار طیارہ ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس طیارے میں 295 افراد سوار تھے۔

ملائیشیا ایئر لائنز کے ساتھ اس سال طیارہ گرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ مارچ میں ملائیشین طیارہ ایم ایچ 370 غایب ہو گیا تھا جس کا تا حال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

ان واقعات کے بعد اب ملائیشیا ایئر لائنز کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

ملائیشیا ایئر لائنز کے لیے بینکاری کرنے والے بینک ڈی وی ڈی میں ہوا بازی کے شعبہ کے سربراہ برٹرانڈ گرابوسکی نے کہا کہ ’اگرچہ یہ خالصتاً حادثہ بھی ہے۔ لیکن تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ چند مہینوں میں ایک ایئر لائنز کے دو بڑے طیارے غائب ہو جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی طرف سے اس ایئر لائنز کے لیے امداد واضح اور بہت زیادہ ہونی چاہیے۔‘

ملائیشیا ایئر لائنز کئی سالوں سے خسارے میں ہے اورگذشتہ نو مہینوں میں بازار میں اس کی قدر 40 فیصد سے زیادہ گر گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سرمایہ کاری کرنے والی سرکاری کمپنی خزانہ نیشنل جو اس ایئر لائنز میں زیادہ حصص کی مالک ہے، اسے نجی شعبے کو فروخت کرنا چاہتی ہے۔

خزانہ نے حالیہ سالوں میں اس ائیر لائنز میں ایک ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس نے ماضی میں ایئر لائنز میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عندیہ دیا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ائیر لائنز کو زندہ رکھنے یا چلانے کے لیے اس میں فوری طور پر مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

کوالالمپور میں مے بینک میں سرمایہ کاری کے تجزیہ کار محسن عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ملائیشیا ائیر لائنز کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے بغیر ملائیشیا ایئر لائنز ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر ایئر لائنز کو فنڈنگ مل بھی جاتی ہے تو پھر بھی اس کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔‘

بئرڈ اینڈ بئرڈ کمپنی میں ہوا بازی شعبے کے شراکت دار لیو فاتورینی نے کہا کہ ’یورپ کے نقطۂ نظر سے حالیہ حادثے کی وجہ سے ائیر لائنز کی ساک متاثر ہو جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ نے پوچھنا ہے کہ کیا ان کے برانڈ کا ساک حالیہ حادثے سے ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا۔‘

اسی بارے میں