’دکھی‘ برفانی ریچھ کو کینیڈا لے جانےکی مہم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’آرتورو‘ ارجنٹائن میں واحد برفانی ریچھ ہے

ارجنٹائن کے چڑیا گھر میں مقید برفانی ریچھ کو کینیڈا منتقل کرنے کی آن لائن پٹیشن پر تقریباً دو لاکھ افراد دستخط کر چکے ہیں۔

’آرتورو‘ نامی یہ برفانی ریچھ ارجنٹائن کے شہر منڈوزا کے چڑیا گھر کے ایک سیمنٹ سے بنے ہوئے احاطے میں تنہا رہتا ہے جہاں کبھی کبھی درجۂ حرارت 38 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔

29 سالہ آرتورو اکثر اپنے احاطے میں تیزی سے چلتا دکھائی دیتا ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اس کےرویے سے افسردگی ظاہر ہوتی ہے۔ آرتورو کی ساتھی پلوسا کا دو سال قبل انتقال ہو گیاا تھا۔ جانوروں کے حقوق کے لیے لڑنے والے گروپوں نے آرتورو کی حفاظت سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔

آرتورو کو کینیڈا منتقل کرنے سے متعلق آن لائن پیٹیشن کا آغاز امریکی ایوان نمائندگان کے سابق سپیکر نیوٹ گنگرچ نے کیا تھا۔

آرتورو کی انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی تصاویر نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا اور انھوں نےاسے کینیڈا منتقل کرنے کی حمایت کی ہے۔

منڈوزا چڑیا گھر کے منتظم کہہ چکے ہیں کہ آرتورو کے بڑھاپے کی وجہ اس کے لیے کینیڈا کا سفر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود آرتورو کو کینیڈا لے جانے کی مہم جاری ہے۔ آن لائن پٹیشن میں ارجنٹائن کی صدر کرسٹینا فرناندیس سے درخواست کی گئی ہے کہ آرتورو کو ونی پیگ چڑیا گھر لے جایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آرتورو کو دنیا کے ’اداس ترین‘ جانور کا خطاب ملا ہوا ہے۔

انیوٹ گنگرچ نے بدھ کے روز فیس بک پر لکھا کہ ’اگر آپ میری طرح جانوروں سے محبت کرتے ہیں تو آپ بھی آرتورو کو بچانے کےلیے اس پٹیشن پر دستخط کریں گے۔ اس کی موجودہ صورت حال بہت افسوس ناک ہے اور وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اسے بچایا جائے۔‘

کینیڈا کے ونی پیگ چڑیا گھر کی انتظامیہ کہہ چکی ہیں کہ وہ آرتورو کو قبول کر لیں گے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ آرتورو کے تبادلے کا فیصلہ ارجنٹائن کے چڑیا گھر کے ہاتھوں میں ہے۔

اسی بارے میں