’جب میرے ابا نے ہٹلر کو قتل کرنے کی کوشش کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹافن برگ کا تعلق ایک خاندانی گھرانے سے تھا

20 جولائی 1944 کو 36 سالہ جرمن فوجی اہلکار کرنل کلاسگراف وان سٹافن برگ مشرقی پرشیا کے جنگل میں فوج کی سخت سکیورٹی میں قائم تنصیب پر پہنچے۔ اُن کا مقصد ہٹلر کو قتل کرنا تھا۔

اس تنصیب کو ’وولف شانزے‘ یا بھیڑیےکا غار کہا جاتا تھا اور یہ مشرقی محاذ پر ہٹلر کا خفیہ صدر دفتر تھا۔ سٹافن برگ ہٹلر اور جرمن اعلیٰ حکام کے درمیان روزانہ کی بریفنگ میں شامل تھے مگر ان کے بریف کیس میں ایک بم تھا۔

جرمن فوج کے افسر جنرل والٹر وارلیمونٹ نے 1967 میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہم کھڑے تھے، ہٹلر کمرے میں داخل ہوئے اور کانفرنس کا آغاز ہوا۔ اچانک دروازہ کُھلا اور میں نے مڑ کر دیکھا کہ ایک کرنل داخل ہوا ہے۔ اس کرنل نے مجھ پر کافی اثر کیا کیونکہ اس کی دائیں آنکھ پر کالا کپڑا لگا تھا، اس کا ایک بازو کٹا ہوا تھا اور وہ بہت سیدھا کھڑا ہوا تھا۔ وہ ایک روایتی فوجی کی زندہ تصویر تھا۔ ہٹلر نے اس کی جانب دیکھا اور (جنرل کائٹل) نے اس کا تعارف کرایا۔‘

سٹافن برگ کا تعلق ایک خاندانی گھرانے سے تھا۔ وہ کیتھولک مذہب کے پیروکار تھے۔ ان کے بیٹے برٹ ہولڈ شونک گراف ون سٹافن برگ کا کہنا ہے کہ ’سب کہتے ہیں میری والد بہت خوب صورت تھے ۔ کالے بال، نیلی آنکھیں اور قد میں بہت لمبے تھے۔ وہ بہت خوش مزاج تھے اور ہم سب ان کو بہت پسند کرتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جس وقت بم دھماکہ ہوا، ہٹلر نے یہ پتلون پہن رکھی تھی

سنہ 1943 میں سٹافن برف تیونس میں لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی آنکھ ضائع ہو گئی تھی اور ان کا دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کی تین انگلیاں بھی کٹ گئی تھیں۔

سٹافن برگ بظاہر سیاسی نہیں تھے مگر وہ قدامت پسند تھے اور وطن سے محبت کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی تو نازی پالیسیوں کی حمایت کی مگر جب جنگ بڑھتی گئی تو حکومت کے خلاف ان کی نفرت میں بھی اضافہ ہوا۔ انھیں مشرق میں جرمنی کے مظالم دیکھ کر خوف آنے لگا اور اندازہ ہوا کہ شاید جرمنی جنگ ہار جائے گا۔

ان کے بیٹے برٹ ہولڈ کا کہنا ہے کہ ان کہ والد ’ہٹلر کی جنگی حکمت عملی کے مخالف تھے۔ میں دس سال کا تھا اور دنیا میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھتا تھا۔ میں خود بھی نازی بننے والا تھا مگر یہ بات میں نے اپنے والدین سے کبھی نہیں کہی تھی۔ اگر میرے والد نے ہم سے سیاست پر بات چیت کی ہوتی تو ان کے خیالات ظاہر ہو جاتے۔ اس وجہ سے انھوں نے اپنے بچوں سے بھی بات نہیں کی کیونکہ بچے سب کچھ بتا دیتے ہیں۔‘

جب سٹافن برگ جنگ میں زخمی ہونے کے بعد صحت یاب ہوئے تو ان سے باغی گروہ کے جنرل ہینگ ون تریسکو نے رابطہ کیا اور اس طرح سٹافن برگ باغی گروہ کے منصوبے کا اہم حصہ بن گئے۔ آنے والے کچھ مہنیوں میں ہٹلر کو مارنے کے لیے مختلف اقدام کیے گئے مگر سب ناکام رہے اور اسی وجہ سے گسٹاپو ان باغی فوجیوں کی تاک میں تھے۔

مگر سنہ 1944 میں سٹافن برگ جرمن ریزرو آرمی میں چیف آف سٹاف بنے۔ اس منصب کی وجہ سے انھیں ہٹلر کی قربت میسر ہو گئی۔ باغیوں کا منصوبہ بہت خطرناک تھا۔ اس کے مطابق سٹافن برگ دھماکہ خیز مواد بریف کیس میں سکیورٹی چوکی سے لے کر جائیں گے اور اسے ہٹلر کے قریب جا کر رکھیں گے اور خود کوئی بہانہ کر کے کمرے سے نکل جائیں گے۔ دھماکے کے بعد سٹافن برگ فوراً برلن چلے جائیں گے جہاں باغی ریزرو فوج کے ذریعے حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔

جمعرات 20 جولائی کو جب سٹافن برگ ولف لائیر میں آئے تو بم بناتے ہوئے ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ صرف ایک بم اپنے ساتھ رکھ سکے۔ سابق فوجی وارلیمونٹ کا کہنا ہے کہ ’مجھے یاد ہے کہ سٹافن برگ کے صحت مند بازو کے نیچے ایک بریف کیس تھا۔ مگر اس کے بعد میں نے ان کی طرف نہیں دیکھا اس لیے میں نے انھیں میز کے نیچے بم رکھتے ہوئے یا تھوڑی دیر بعد کمرے سے باہر جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تقریباً پانچ یا دس منٹ کے بعد دھماکہ ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دھماکے کے بعد ہٹلر اور مسولینی نے اس ہال کا جائزہ لیا جہاں بم پھٹا تھا

سٹافن برگ نے کمپاؤنڈ کے باہر سے دھماکہ ہوتا دیکھ لیا تھا اور وہ برلن کی طرف یہ سمجھتے ہوئے روانہ ہو گئے تھے کہ ہٹلر یقیناً قتل ہو چکے ہیں۔ مگر ایسا نہ تھا۔ دھماکے سے ذرا دیر پہلے ہی کسی نے بریف کیس کو ہٹلر سے دور رکھ دیا تھا۔ جب دھماکہ ہوا تو ہٹلر فاصلے پر تھے۔ اس طرح وہ بچ گئے مگر چار دوسرے افراد اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے ۔

وارلیمونٹ کا کہنا ہے کہ ’جب دھماکہ ہوا تو مجھے ایسا لگا جیسے میرے اوپر کوئی فانوس گرگیا ہو۔ مجھے بس یہ یاد ہے کہ ہٹلر کائٹل کی مدد سے کمرے سے باہر جا رہے تھے اور وہ زیادہ زخمی نہیں تھے۔

’چند گھنٹوں بعد یہ واضح ہو گیا کہ ہٹلر زندہ ہیں اور باغیوں کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ سٹافن برگ اور دوسرے باغیوں کو برلن سے گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔‘

سٹافن برگ کی حاملہ بیوی نینا اور ان کے چار بچے اس سازش سے بالکل بےخبر تھے۔ اس رات گسٹاپو والے آئے اور برٹ ہولڈ کی ماں اور دادی کو گرفتار کر لیا۔ برٹ ہولڈ اور ان کے بہن بھائیوں کو دارلامان بھیج دیا گیا۔ جنگ کے بعد سٹافن برگ کی اہلیہ اپنے بچوں سے دوبارہ مل پائیں مگر انھوں نے دوسری شادی نہیں کی۔ بارٹ ہولڈ کا کہنا ہے ’ میری والدہ کے لیےصرف میرے والد تھے اور بس۔‘

سٹافن برگ کے بیٹے برٹ ہولڈ مغربی جرمنی کی فوج میں جرنیل بنے اور آج بھی اپنے آبائی گاؤں میں رہتے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے: ’مجھے کوئی شک نہیں کہ ہٹلر کے قتل کے منصوبے نے جرمنی کی عزت کو تاریخ میں کچھ حد تک بچایا ہے۔‘

اسی بارے میں