مشرقی یوکرین: جائے حادثہ سے 196 لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاز تک رسائی پوری طرح سے باغیوں کے کنٹرول میں ہے

مشرقی یوکرین میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملائشیا ایئر لائن کے جہاز کی جائے حادثہ سے کُل 196 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ جن میں سے 169 لاشوں کو ایک ائر کنڈیشنڈ ٹرین میں بند کرکے کسی نامعلوم مقام کی جانب روانہ کردیا گیا۔

بین الاقوامی مبصرین کو بتایا گیا کہ لاشیں پندرہ کلومیٹر دور ایک قریبی شہر ٹورس بھیجی گئیں ہیں۔

واضح رہے کہ ملائیشیا کا مسافر بردار طیارہ جمعرات کو یوکرین کی فضائی حدور میں تباہ ہوگیا تھا۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملائشیا ایئر لائن کے مسافر بردار جہاز کو میزائل مار کر گرایا گیا تھا جس میں 298 افراد سوار تھے۔

جس علاقے میں یہ جہاز گرا وہ علاقہ روس کے حمایتی باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

جائے حادثہ پر اب سابقہ بلوہ پو لیس تعینات کردی گئی ہے۔ جس نے اس علاقے کو اپنےگھرے میں لیے لیا ہے۔ اور نامہ نگاروں کو جائے حادثہ کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہے۔

ہر گزرتا ہوا لمحہ حادثے کی سچائی جاننے سے دور لے جارہا ہے۔ مگر فی الحال بین الاقوامی تفتیش کاروں کے جائے حادثہ پر پہنچنے کے کوئی آثار نہیں۔ جس کا مطالبہ بین الاقوامی برادری شدت سے کررہی ہے۔

مغربی ممالک کا مطالبہ ہے کہ روس یوکرین میں باغیوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ جمعرات کو گر کر تباہ ہو جانے والے ملائیشیا ایئرلائن کے طیارے کی جائے حادثہ تک تفتیش کار ماہرین کو مکمل رسائی فراہم کریں۔

ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے روسی صدر ولادمیر پوتن سے کہا ہے کہ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے اور روس اس معاملے میں کوئی مدد نہیں کررہا۔

برطانیہ نے بھی روسی سفیر سے ایسا ہی مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ اگر روسی موقف میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو منگل کو ہونے والے یورپی یونین کے خارجہ حکام کے اجلا س میں روس کے خلاف تادیبی پاندیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جگا۔

اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی مبصرین کی نقل و حرکت روس حامی باغیوں نے محدود کر رکھی ہے۔

امریکہ کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس قسم کی کئی رپورٹس ملی ہیں کہ جائے حادثہ سے شواہد مٹانے کے لیے تباہ شدہ طیارے کے ملبے اور لاشوں کو غائب کیا جارہا ہے۔

واضح رہے یہ باور کیا جارہا ہے کہ مسافر بردار طیارہ کو لگنے والا میزائل روسی ساخت کا تھا۔

یوکرین اور روس حامی باغی دونوں ہی اس طیارے کو مار گرانے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔

یوکرین کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی نواز یوکرینی باغی ملائیشیا کے تباہ شدہ طیارے کی تباہی ایسے ممکنہ شواہد کو مٹا رہے ہیں جو عالمی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرین میں تباہ ہونے والے ملائشیا ائیر لائنز کے طیارے ایم ایچ 17 کو یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

صدر اوباما نے کہا تھا کہ یوکرین میں روس نواز باغیوں کو روس کی جانب سے طیارہ شکن ہتھیاروں سمیت مسلسل دیگر فوجی ساز و سامان ملتا رہا ہے۔

یوکرین نے اس علاقے کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا ہے جبکہ دیگر ایئرلائنوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پروازیں مشرقی یوکرین کے فضائی راستے سے ہو کر نہیں جائیں گی۔

ملائشیا ایئر لائنز نے طیارے میں سوا ر مسافروں کی ناموں فہرست جاری کردی ہے۔ کے مطابق طیارے پر 192 کا تعلق ہالینڈ سے، 27 آسٹریلوی، 44 ملائیشیائی (جن میں 15 عملے کے ارکان بھی شامل ہیں)، 12 انڈونیشیائی اور 10 برطانوی مسافر سوار تھے۔ دیگر مسافروں کا تعلق جرمنی، بیلجیئم، فلپائن اور کینیڈا سے تھا۔

ملائشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور تباہ ہونے سے قبل روسی سرحد میں داخل ہونے والی تھی۔ یہ بوئنگ 777 جہاز لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 298 سمفر اور عملے کے افراد ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں